گٹکے سے جانبحق ہونے والے کا قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم، مشیران کے تفصیلات طلب، شہری کو سی ٹی ڈی نے اغوا کرلیا

0

کراچی(ای این این ایس) سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، مشیروں کی جانب سے وزارتیں چلانے اور گٹکے پر بندش سے متعلق درخواستوں پر پیر کو سماعت ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق اقبال پٹیل نامی شخص نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کے بھائی ندیم پٹیل گزشتہ 5 روز سے لاپتہ ہے اب تک گھر نہیں آیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “میرے بھائی کو سی ٹی ڈی نے پہلے بھی اغواء کیا تھا اور نام ائیر پورٹ حملہ کیس میں ڈال دیا تھا”.
ائیر پورٹ حملہ کیس میں بھائی بری ہوا جس کے بعد اسے دوبارہ اغواء کرلیا گیا۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کیسے کسی کو اغواء کرسکتی ہے؟ پولیس کی موجودگی میں اغواء ہونا حیران کن بات ہے۔
عدالت نے ایس ایچ او فیروز آباد، سی ٹی ڈی حکام، رینجرز اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 فروری تک جواب طلب کرلیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کے مشیران اور معاون خصوصی کی تقریری کے خلاف دائر درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔
عدالت نے درخواست پر سندھ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے
27 فروری تک سندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار کے مطابق سندھ کے مشیر اور معاون خصوصی منتخب نمائندوں کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔مشیران اور معاونین خصوصی وزراء کا پورٹ فولیو اور مراعات لے رہے ہیں۔وزراء کا پورٹ فولیو صرف اور صرف عوامی نمائندوں کا حق ہے۔
محمود اختر نقوی نے مطالبہ کیا کہ مشیران اور معاونین خصوصی کی تقرریاں کالعدم قرار دی جائیں۔ مشیران اور معاونین خصوصی سے مراعات اور سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں۔
خیال رہے کہ بیرسٹر مرضیٰ وہاب مشیر وزیر اعلیٰ برائے قانون، اعجاز حسین جاکھرانی مشیر وزیر اعلیٰ برائے وزارت جیل، نثار احمد کھہڑو مشیر وزارت ورکس اینڈ سروسز، سید اعجاز علی شاہ شیرازی وزارت محکمہ سوشل ویلفیئر اور دیگر مشیر کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔
دریں اثناء گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والے ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست کی سماعت بھی ہوئی۔
گٹکے کے خلاف جنگ شروع کرنے والا نسیم حیدر انصاف سے قبل ہی منہ کے کینسر باعث انتقال کرگیا۔
عدالت نے پولیس کو ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ گٹگا بنانے والے اور گٹکا فروش شہریوں کا قتل کر رہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے اپیل کہ کہ ملزم کاشف بابو بتی، اسحاق گودرا، کامران اور رئیس کی ضمانت منسوخ کی جائے۔
ایڈوکیٹ مزمل ممتاز میو نے بتایا کہ مدعی مقدمہ نسیم حیدر منہ کے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے اور یکم فروری کو مدعی مقدمہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ہزاروں لوگ گٹکا کھانے سے منہ کے کینسر میں مبتلا ہیں۔
ملزمان کی ضمانت منسوخ کی جائے، اور گٹکے کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے۔پولیس کی سرپرستی میں گٹکا بیچا جارہا ہے، اس پر پابندی لگائی جائے۔

About Author

Leave A Reply