کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن

0

کراچی/حیدرآباد (ای این این ایس) ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے مختلف تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ کیا ہے جو انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور یہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کےضمیر کو جگانے کیلئے کافی ہے۔

یہ بات انہوں نے کمشنر کراچی کے زیر اہتمام پیپلز چورنگی سے مزار قائد تک کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلی کی قیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ریلی میں صوبائی وزراء، سعید غنی، مرتضی وہاب، وقار مہدی، شہلا رضا، آئی جی سندھ، صوبائی سیکرٹریز، سول سوسائٹی و انسانی حقوق کے کارکنان اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کو دبانے کیلئے وادی کشمیر کے لوگوں کے تاریخی حقوق سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف اپنے آئین میں ترمیم کی ہے بلکہ وادی کشمیر کو ایک ایسی جگہ بنا دیا ہے جہاں لوگوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں دنیا کا سب سے طویل ترین کرفیو نافذ کیا ہوا ہے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لئے کانفرنسز ، واک اور سیمینار کرنے چاہئے لیکن ہمیں سفارتی فورمز پر بھی کچھ ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ بھارت کشمیر کی حیثیت بحال کرے اور وادی کشمیر سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق اور میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت دینے پر مجبور کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے رائے شماری کا فیصلہ کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کروانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سید مراد علی شاہ نے کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کیلئے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کاوشوں کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام گزشتہ حکومتوں نے سنجیدہ پالیسیوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا لیکن موجودہ حکومت اس راہ پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب ٹی آر ڈی پی کی جانب سے کوٹری میں ریلی نکالی گئی، جس سربراہی ڈی سی فرید الدین مصطفیٰ، عشرت فاطمہ، الھوسایو عالمانی و دیگر کر رہے تھے۔
شرکاء نے کشمیریوں سے یکجہتی اور حق خود ارادیت کے حق میں نعریبازی کی۔

کوہالہ سے نوید اکرم عباسی کے مطابق  کوہالہ میں منعقدہ یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب کے دوران راجہ مہتاب اشرف خان کی طرف سے درج ذیل قرار دادیں پیش کی گئیں جنہیں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔

یہ نمائندہ اجتماع اقوام متحدہ کی قرادادوں پیش کردہ 1948ء اور1949ء کو پاس کی گئیں تھیں کے مطابق قوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق “حق ِ خود ارادیت” دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

یہ اجتماع سیز فائر لائن پر ہندوستان کی طرف سے ہونے والی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں سویلین آبادی اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا نے کے عمل کی مذمت کرتا ہے ۔ اور اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے ۔
یہ اجتماع ہندوستان کی آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کے خلاف حقائق و قانون دعوے کی مذمت کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں ، تمام بین الاقوامی معائدوں ، سلامتی کونسل کی قرار دادوں جو ہندوستان و پاکستان نے مشترکہ طور پر منظور کروائیں کے مطابق کشمیر کسی بھی اقوام متحدہ کے رکن ملک کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ علاقہ ہے ۔
یہ اجتماع اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ کشمیری و پاکستانی اقوام ایک قالب اور دو جان ہیں اس رشتے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا ۔
یہ اجتماع کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کی بلا جواز گرفتاریوں ، کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ریاستی دھشت گردی کی مذمت کرتا ہے ۔
یہ اجتماع شہدا ئے جموں وکشمیر کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ۔ یہ اجتماع ،تمام عامی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان بند کروانے کے لیے کردار ادا کرے ۔ آج کا یہ اجتماع پاکستان کی تمام سیاسی ، مذہبی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت پر کشمیریوں کا سا تھ دیا ۔

About Author

Leave A Reply