کسی کو احساس ہے کہ لاپتہ شخص کے اہل خانہ پر کیا قیامت گزرتی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیں کر رہے: عدالت

0

کراچی (ای این این) سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت بدھ کی صبح ہوئی۔

محکمہ تعلیم کے ملازم اسلم کمال کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت کی گئی۔

جبری گمشدہ اسلم کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ “میرے شوہر کو گمشدہ ہوئے 5 سال بیت گئے، لیکن ان کا کچھ پتہ نہیں۔

دوسری جانب لاپتہ کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر عدالت نے پولیس حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کسی کو احساس ہے کہ لاپتہ شخص کے اہل خانہ پر کیا قیامت گزرتی ہے؟

اہل خانہ پر ایک ایک لمحہ قیامت سے کم نہیں ہوتا. پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیں کر رہے۔

اداروں کو صرف خط و کتابت میں 3،3 ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس صرف ڈاکیا کا کردار ادا کر رہی ہے۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ لاپتہ شخص کس کے پاس ہے، معلوم کرنے کے لیے کیا 6، 6 ماہ درکار ہوں گے؟

خاتون کا کہنا تھا کہ “میری بیٹی کی شادی ہے، شوہر کی تنخواہ بھی بند کر دی گئی ہے

عدالت نے اعلیٰ پولیس افسران کو فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ بتایا جائے، اسلم کمال کس ادارے کے پاس ہے؟

About Author

Leave A Reply