پنجاب کے وزیر کے خواتین کے ساتھ رویہ پر احتجاج، تمیز سکھانے کا مطالبہ

0

لاہور (ای این این) وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کے کزن وزیر سماجی بہبود و بیت المال پنجاب یاور بخاری کا کارکنوں کے ساتھ رویہ ناقابل برداشت ہے اور وہ اقلیت خصوصاً خواتین کے ساتھ جس طرح سلوک کرتے ہیں وہ ان کے منصب اور عہدے کے شایان شان نہیں۔

ان خیالات کا اظہار مینارٹی ونگ تحریک انصاف شمالی پنجاب کی خاتون رہنما شیریں اسلم نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں ٹیلی فون پر صوبائی وزیر یاور بخاری کی جانب سے جو سخت الفاظ کی ادائیگی نامناسب اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے وہ ہر بات میں زلفی بخاری کا نام استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ زلفی بخاری کے ذریعے ان کی وزیر اعظم تک آسان رسائی ہے اگر وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے کارکنان کو صوبائی وزیر یاور بخاری کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے تو پھر اٹک میں تحریک انصاف کا اللہ ہی حافظ ہے ہر بار کی طرح یاور بخاری ایک طرف بہن کا درجہ دیتے ہیں اور دوسری جانب دوہرا معیار کر کے میری اور میرے لوگوں کی جن کا تعلق اقلیت سے ہے کی حق تلفی بھی کرتے ہیں ان کی دو طرح سے عزت ہے کہ ایک تو وہ خاتون ہیں دوسری وہ اقلیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہیں اقلیت کی نمائندگی کے طور پر تحریک انصاف میں عہدہ دیا گیا اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں وہ اقلیت کے نمائندہ کے چناءو کی کمیٹی کی بھی رکن ہیں انہوں نے مشاورت سے ایک نام تجویز کیا اور ابھی اس کو فائنل نہیں کیا تھا کہ اس کی بھنک صوبائی وزیر یاور بخاری کو ملی تو انہوں نے انہیں فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو جن کی طبیعت بہت خراب ہے لے کر ہسپتال آئی ہیں انہوں نے خیریت دریافت کرنے کے بعد ان سے انتہائی سخت لہجے میں بات کی کہ انہیں کسی کو نامزد کرنے کا کوئی اختیار نہیں اور انہیں کھری کھری سنا دی جس پر وہ انتہائی افسردہ ہیں، کیونکہ اقلیت ہونے کے ناطے انہیں معاشرے میں پہلے ہی دوسرے تیسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے اور ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت میں پنجاب کابینہ کے رکن یاور بخاری کی جانب سے ان کے ساتھ ٹیلی فون پر کی جانے والی نامناسب اور غیر شائستہ گفتگو کی وہ بھرپور مذمت کرتی ہیں اصولی طور پر جو نام انہوں نے تجویز کیا ہے وہ نام وہ اپنے صدر تحریک انصاف شمالی پنجاب مینارٹی ونگ کی منظوری کے بعد یاور بخاری کے پاس بھیجنا تھا اور وہاں سے اعلیٰ قیادت کے پاس جا کر اس کی منظوری ہونی تھی جو اصولی طریقہ کار ہے اگر انہیں ہمارے نام سے اختلاف تھا تو وہ گھر بلا کر یا فون پر اپنے منظور نظر اور پسندیدہ امیدوار کے بارے میں سفارش کر سکتے تھے تاہم انہوں نے فون پر جو رویہ اختیار کیا اس کی اطلاع انہیں صدر تحریک انصاف شمالی پنجاب مینارٹی ونگ کو دی جن کی ہدایت پر وہ یہ پریس کانفرنس کر رہی ہیں وہ تحریک انصاف کے ساتھ رہیں گی تاہم وزیر سماجی بہبود بیت المال پنجاب یاور بخاری کی کسی طرح بھی حمایت نہیں کریں گی۔

About Author

Leave A Reply