پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کا اجلاس، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہیں ہوئی، 2580 اہلکار کرونا سے متاثر

0

کراچی(ای این این ایس) کورونا وائرس سے 2580 پولیس اہلکار متاثرہوئے، ان میں سے 16 اہلکار انتقال کرگئے، جبکہ 1604 زیر علاج ہیں اور 960 صحت یاب ہو چکے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو فرنٹ لائن ورکر ہونے کی وجہ سے انہیں ضروری تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی ڈیوٹی بحفاظت طریقے سے ادا کرسکیں۔
اس بات کا انکشاف وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کے اجلاس میں کیاگیا۔ اجلاس میں مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، ایم پی ایز شرجیل میمن، امداد پتافی، محمدد علی عزیز، حسنین مرزا، شمیم ممتاز، ڈاکٹر شجیلہ لغاری، کرامت علی، ناظم حاجی، بیرسٹر حیا ایمان، روبینہ بروہی، جھمٹ مل، قربان ملانو، چیف سکریٹری سید ممتاز شاہ، آئی جی پولیس مشتاق مہر، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، اے سی ایس ہوم عثمان چاچڑ، سکریٹری خزانہ حسن نقوی کمیشن کے سکریٹری سیف اللہ ابڑو اور دیگر نے شرکت کی۔
انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر نے بتایا کہ پولیس اہلکار اس وبا کے دوران بھی بلاخوف وخطر فرنٹ لائن ورکر کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کورونا وائرس سے 2580 پولیس اہلکار متاثر ہوئے، ان میں سے 16 اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 1604 زیر علاج ہیں اور 960 صحت یاب ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں پولیس اہلکاروں کو ضروری تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی ڈیوٹی بحفاظت ادا کرسکیں۔پبلک سیفٹی کمیشن نے وبائی امراض کے دوران فرض شنانی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے پر سندھ پولیس کی تعریف کی۔سیکرٹری کمیشن سیف اللہ ابڑو نے اجلاس کو بتایا کہ پولیس افسران کے خلاف دائر عوامی شکایات کو متعلقہ کمیٹیوں نے نمٹا دیا ہے۔ سکھر کے واٹر پارک سے متصل زمین پر قبضہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے پر ایک سابق پولیس افسر کے خلاف شکایت درج کروائی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تفتیش کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور یہ کیس عدالت میں ہے۔ایم پی اے محمد علی عزیز نے شہر میں بڑھتے اسٹریٹ کرائم کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگلے اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی کو بلایا جائے گا تاکہ ممبران کو اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے اور پولیس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔اراکین نے پبلک سیفٹی کمیشن کے افسران کو گاڑیاں فراہم کرنے کا معاملہ اٹھایا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر رکھی ہے لہٰذا گاڑیوں کی خریداری روک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت اجازت دے گی تو ہم گاڑیاں خریدیں گے۔ کمیشن کے ممبران نے بچوں کے خلاف غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث مجرموں کی گرفتاری پر خیرپور پولیس کی تعریف کی۔ ممبران نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے میں مناسب تفتیش کی جائے گی تاکہ پورے گینگ پر مقدمہ دائر کیاجاسکے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کمیشن کا اگلا اجلاس اگست میں طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کمیشن کا اجلاس نہیں ہوسکا لیکن اب اس کا اجلاس مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔

About Author

Leave A Reply