پاکستان کے شہر ملتان میں اقلیتیوں سے محبت کرنے والے اور انکے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے لوگ اب بھی موجود ہیں! تحریر سید ماذن یوسف

0

 ملتان کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے۔ اس تاریخی شہر میں ایک علاقہ ایسا بھی جہاں  بسنے والے مسلمان اپنے اردگرد بسنے والےمسیحی اور ہندو بھائیوں سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ ان کے مذہبی عقائد کی ادائیگی کی خاطر ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی ان کی مدد کیلیےبھی  پیش پیش ہیں۔

ہم بات کررہے ہیں ملتان کی یونین کونسل نمبر 68 کی جس کی گلزار کالونی،مریم کالونی اور یوحنا آباد کے علاقوں میں 300کے قریب کرسچن اور 200کے قریب ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد گزشتہ کئی سال سے رہائش پذیر ہیں ان دونوں کمیونٹیز کے اردگرد پورے علاقے میں مسلمان آباد ہیں۔ آج تک ان علاقوں سے کسی کو یہ خبر نہیں ملی کے ان کمیونٹیز کے درمیان جھگڑا ہوگیا لیکن البتہ یہ خبریں ضرور سننے کو ملتی ہیں کہ مسلمان کمیونٹی کی خصوصی  کاوش سے ان کالونیز میں سٹرک کی تعمیر سے لے کر راشن کی تقسیم اور ہندو کمیونٹی کیلیے مندر کی تعمیر کیلیے باسط علی جیسا مسلمان اپنی زمین تک دینے کو تیار ہے،

جی ہاں آپ نے سہی پڑھا اپنی زمین،، اس علاقے میں پاکستان بننے کے بعد آنے والے راو آصف علی اور انکے دیگر دوست گاہے بگاہے ان دونوں اقلیتیی کمیونٹیز کیلیے مختلف پرگرامز کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ راو آصف علی خود بھی کچھ سال قبل علاقے کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے ہیں آجکل اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کرسچن کمیونٹی کیلیے علاقے میں قبرستان اور ہندو کمیونٹی کیلیے مندر کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔

اس علاقے کی اگر ہم بات کریں تو ہر سال کرسمس اور دیوالی کے موقع پر مسلمان بھائیوں کی جانب سے کمیونٹیز میں راشن کی تقسیم اور مختلف پروگرامز کے انعقاد سے لے کر دیگر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے

اب بات چند بڑے منصوبہ کی جانب گامزن ہے جس میں باسط علی جیسے مسلمان  اپنی 10 مرلے زمین جوکہ گلزار کالونی مین واقع ہےاسے ہندو کمیونٹی کو مندر کی تعمیر کیلیے دینے پر رضامندی کا اظہار کرچکے ہیں جس کے بعد علاقہ کے چند سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے مسلمان بھی  ان کی مدد کیلیے میدان میں عملی طور موجود نظر  آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مسلمانوں اور دونوں کمیونٹیز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اب تک دو مرتبہ اسلام آباد جاکر اقلیتی امور کے حکام سے ملاقاتیں کرچکے ہیں جو ان کو مندر کی تعمیر اور کرسچن کمیونٹی کیلیے علاقہ میں موجود حکومتی زمین پر کرسچن کمیونٹی کیلیے قبرستان کی تعمیر والے علاقہ کی نشاندہی کرچکی ہے جس پر وزارت اقلیتی امور میں سنجیدگی سے غور شروع کرچکا ہے۔

مسلمان ،ہندو اور کرسچن سمجھتے ہیں ان دو بڑے منصوبوں کو وہ اسی سال 2020میں عملی طور پر شروع کروانے میں کامیاب بھی ہوجائیں گے یہ وہ مثال جو اس علاقے میں مسلمان بھائیوں کا اپنے ہمراہ بسنے والی دونوں اقلیتیوں سے محبت اور ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے

About Author

Leave A Reply