وفاقی حکومت سندھ میں گیس کی قلت پیدا کر رہی ہے: مراد شاہ

0

کراچی(ای این این ایس) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے کہا ہے کہ  وفاقی حکومت اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے سندھ میں مسلسل  قدرتی گیس کی قلت پیدا کررہی ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ  یہ ان کی غلط منصوبہ بندی اور ناکامی کے باعث یہ صورتحال پیداہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بات آج 4 ترقیاتی منصوبوں بشمول کورنگی میں دو پُل، حیدرعلی روڈ پر ایک انڈر پاس  اور کینٹ اسٹیشن کے اطراف اور اندر سڑکوں کی تعمیر کی افتتاحی تقریب جوکہ آج کورنگی میں  پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انجام دی سے خطاب  کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  انہیں یہ بات جان کر تعجب ہوا ہے کہ ایک وفاقی  وزیر  ان کی (سندھ) حکومت کو سندھ میں  گیس کی قلت کا ذمہ دار قرار دے رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت  کا موقف آئین کے آرٹیکل 158 پر عملدرآمد  کے حوالے سے بالکل واضح ہے کہ اس پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل ہوناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ  ہم چاہتے ہیں کہ آپ پہلے سندھ کی  گیس کی ضروریات کو پوراکریں اور اس کے بعد باقی ماندہ گیس جہاں پر بھی اس کی ضرورت ہے وہاں تقسیم کی جائے۔انہوں نے  واضح طورپر  کہا کہ ہم آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ آپ  سندھ سے پیدا ہونی والی گیس لے جائیں  اور  ہمیں  ایل این جی کی خریداری  کرنے پر زور دیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے دن ہی یہ  واضح کردیا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے گھریلو یا صنعتی صارفین کے لیے ایل این جی نہیں خریدے گی مگر  ہم گیس  جوکہ یہاں پیدا ہورہی ہے اُسے استعمال کریں گے اگر آپ کو گیس کی ضرورت ہے تو آپ  ایل این جی خرید سکتے ہیں۔
کراچی کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  سندھ حکومت نے ہمیشہ کراچی کے لوگوں کو  اہمیت دی ہے جس کا ثبوت  ترقیاتی نیٹ ورک سے بخوبی لگایا جاسکتاہے جوکہ ہم نے سڑکوں ، فلائی اوورز ، پُلوں اور انڈر پاسز کی صورت میں  شہر میں  جال بچھایا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  2019 کا سال ختم ہورہاہے اور 2020 میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے  متعدد میگاپروجیکٹس شروع کیے ۔انہوں نے چند منصوبوں کا نام لیتے ہوئے بتایاکہ ان میں  شاہراہ فیصل کی توسیع اور بہتری ،یونیورسٹی روڈ حسن اسکوائر تا صفورہ گوٹھ، حب ریور روڈ، مدینۃ الحکمت روڈ، فوراہ چوک تا کراچی زو سڑک، کینٹ ریلوے اسٹیشن کی  بیوٹیفیکیشن اور  ارد گرد کے علاقوں کی بہتری،ڈرگ روڈ انڈر پاس، منزل پمپ فلائی اوور N-5 شامل ہیں ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ طارق روڈ انڈر پاس 9 ماہ سے بھی کم عرصے میں 589.9 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہوا ہے۔ بیگم رعنا لیاقت علی فلائی اوور 668.2 ملین روپے  کی لاگت سے 7 ماہ میں مکمل ہواہے۔ ٹیپو سلطان روڈ 308.6 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں دوبارہ تعمیر ہوا ہے۔ سن سیٹ فلائی اوور 460.4 ملین روپے کی لاگت سے 5 ماہ میں مکمل ہواہے۔سب میرین چورنگی پر انڈر پاس 2204.9 ملین روپے کی لاگت سے  13 ماہ میں مکمل ہواہے ۔ سید صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ 693.5 ملین روپے کی لاگت سے 15 ماہ میں مکمل ہواہے۔ 12 ہزار روڈ کورنگی کی تعمیر 1002.0ملین روپے کی لاگت سے 9 ماہ میں مکمل ہواہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  ہم یہاں آج  کورنگی میں  حال ہی میں مکمل ہونے والے 7 منصوبوں کے افتتاح کے لیے جمع ہوئے ہیں ان منصوبوں میں  کینٹ ریلوے اسٹیشن پر سڑکوں بہتری کامنصوبہ، کورنگی نمبر 5 انٹر سیکشن پر پُل،کورنگی نمبر ڈھائی انٹر سیکشن پر پُل، حیدرعلی روڈ پر انڈر پاس کے منصوبے شامل ہیں ۔
ریڈ لائن منصوبہ  ایئرپورٹ (ماڈل کالونی) تا صدر تا ٹاور شروع کیاجارہاہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ  ان کی حکومت  نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ریڈ لائن بی آرٹیز کا منصوبہ شروع کیاہے جس کے لیے عملدرآمد کا کام آئندہ 2 ماہ میں شروع ہوجائے گا۔
ییلو لائن بی آرٹی ایس:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ییلو لائن پروجیکٹ  کورنگی(مانسہرہ چوک)  تا صدر (نمائش) شروع کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ  ورلڈ بینک ان کی حکومت کے ساتھ ییلو لائن  کورنگی تا صدر کی تعمیر کے حوالے سے تعاون کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ چند بڑے بڑے کاموں کی فہرست  تھی جوکہ پی پی پی قیادت  کی رہنمائی میں  شروع کیے گئے اور پایہ تکمیل تک پہنچائے گئے۔

About Author

Leave A Reply