وانا میں سیب کے باغات بارش کی وجہ سے متاثر

0

(وانا(رپورٹ: مجیب الرحمٰن
جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا کے سیب اپنے مخصوص مٹھاس کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہیں، لیکن اس سال طوفانی بارشوں اور ژالاباری نے سیب کے باغات کو انتہائی متاثرکیاہے۔
حکومت اور پی۔ ڈی۔ ایم۔ اے کی جانب سے متاثرہ زمینداروں کیلئے کسی بھی پیکیج کے اعلان نہ کرنے پر بھی یہاں کے باغوان نالاں ہیں۔جسکی وجہ سے زمیندارسال بھر کی آمدنی سے کسی حد تک محروم ہونے پر پریشان ہیں۔
جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا اور ان سے ملحقہ علاقے مختلف قسم کے پھل اور سبزیوں کیلئے مشہور ہے۔
دوسال قبل حکومت نے وانا میں ایگری پارک کے نام سے ایک بڑے علاقے پر تعمیرات کی، جس میں چلغوزے کیلئے پروسیسنگ پلانٹ کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کیلئے کولڈ سٹوریج کے انتظامات بھی کئے گئے، لیکن بدقسمتی سے اس پارک کو ابھی تک فنکشنل نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں سڑجاتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق وانا میں سیب کی سالانہ پیداوار 1لاکھ 65 ہزار ٹن ہے۔ کولڈسٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے اکثرمیوہ جات ضایع ہوجاتے ہیں۔
وانا میں موجود فورٹ کمیشن ایجنٹ ارسلاجان کا کہنا تھا کہ حکومت اور محکمہ زراعت کی جانب سے پھلوں کی نگرانی اور باغات کی حفاظت کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں لئے گئے ہیں۔محکمہ زراعت کے وانا میں موجود آفس کی جانب سے صرف مکئی کے تخم کے علاوہ سیب کے باغات کیلئے اسپرے و دیگر انتظام موجود نہیں، اگر محکمہ زراعت اس بابت ضروری اقدامات اٹھائے تو سیب کی پیداوار دگنی ہوسکتی ہے۔ ارسلاجان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں سیزن کے وقت مزدور وانا کا رخ کرتے ہیں، مختلف سبزی منڈیوں اور سیب کے باغات میں کام کرتے ہیں، جوکہ نہ صرف کمائی اور روزگار پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، بلکہ وانا آکرشدید گرمی میں وانا کے موسم سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ ارسلاجان کا کہنا تھا کہ سیب کا یہ سیزن دو مہینے تک چلتا ہے جوکہ ملک بھر کے تمام فروٹ مارکیٹ کو سپلائی کی جاتی ہے۔

About Author

Leave A Reply