وانا: ایم این اے علی وزیر کا استقبال، ہزاروں لوگ امڈ آئے: جمہوریت اور امن چاہیے: جلسے سے خطاب

0

وانا(ای این این ایس)جنوبی وزیرستان حلقہ این اے 50 سے ایم این اے علی وزیر کو حکومت نے خڑقمرکے واقعے میں 26 مئی کو گرفتار کر کے پہلے بنوں اور پھر پشاور جیل منتقل کردیا۔

چند دنوں بعد اس واقعہ کی پاداش میں نارتھ وزیرستان کے قومی جرگہ نے شمالی وزیرستان سے منتخب ایم این اے محسن جاوید داوڑ کو حکومت کے حوالے کیا تھا۔دونوں منتخب عوامی نمائندوں کو پشاور جیل میں کچھ دن رکھنے کے بعد ان کو ہری پور جیل منتقل کردیا گیا۔ 18ستمبر 2019 کو بنوں ہائی کورٹ بنچ نے دونوں عوامی نمائندوں علی وزیر اور محسن جاوید داوڑ کو مشروط ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کئے۔
اس دوران ملک کی دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکین اسمبلی بھی گرفتار ہوچکے تھے، مگر ان کو اسپیکر کی طرف سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر پارلیمنٹ میں لایا جاتا رہا، تاہم 26 مئی 2019 کو گرفتار ہونیوالے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کو پارلیمنٹ کے کئی اجلاسوں میں پیش نہیں کیا گیا۔
چار مہینے اسیری کی زندگی جیل میں گذارنے کے بعد جب رہا ہورہے تھے، تو سینکڑوں کارکن ہری پور جیل کے دروازے پر ان کے استقبال کیلئے منتظرتھے، دونوں نمائندوں کو عوامی استقبال میں پشاور لایا گیا، پشاور سے اگلی صبح دونوں نمائندے اپنے اپنے آبائی علاقے روانہ ہوگئے۔
علی وزیر کی پشاور سے روانگی کے بعد جگہ جگہ استقبال کیا گیا اور رات گئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے، رات ڈیرہ میں گذرنے کے بعد صبح اپنے آبائی علاقے وانا کیلئے روانہ ہوئے تو راستے میں مختلف مقامات پر لوگوں نے ان کا تاریخ ساز استقبال کیا۔
وزیرستان میں انٹر ہوتے ہی چگملائی کے مقام پر محسود قبائل نے علی وزیر اور ان کے قافلے میں شامل سینکڑوں گاڑیوں میں سوار ہزاروں افراد کیلئے طعام کا اہتمام کیاتھا اور مختلف مقامات پر ہزاروں افراد ان کے استقبال کیلئے اپنے گھروں سے نکل کر تپتی دھوپ میں ان کے آنے کا انتظار کرتے رہے،وزیر قبائل کی محبت کا یہ عالم تھا،کہ وہ وانا سے 65 کلومیٹر دوران کے استقبال کیلئے نکل آئے۔ ،مدیجان، درگئے، تنائی اور تیارزہ مستی خیل میں کئی کئی قیام کے بعد جب جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا پہنچے تو سورپل تک روڈ کے دونوں طرف لوگوں کی ایک زنجیر نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم امن کیلئے کوشاں ہیں، ہمیں اپنے علاقے میں امن چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے سورج کی روشنی میں وانا کے مصروف ترین جگہ سے لوگوں کو اٹھاکر غائب کردیتے ہیں، شہید مولانا نور محمد کے فرزند ڈاکٹر نورحنان کی بازیابی حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت 3 دن کے اندر ان کی بازیابی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے اوراگر ڈاکٹر نورحنان تین دن تک بازیاب نہ ہوئے تو عوام مظاہرے پر مجبور ہوگی۔

About Author

Leave A Reply