ملتان گزشتہ کئی سال سے اقلیتوں اور مختلف فرقوں کے افراد کے مابین امن و ایثار کی مثال

0

  ملتان(تحریر سید ماذن یوسف) ملتان  پاکستان کا ایک ایسا عہد ساز شہر ہے جوکہ  مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور انکو امن و امان کے ساتھ مذہبی عقائد ادا کرنے کی مکمل آزادی بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سال بھی مختلف عقائید سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے روائیتی تہوار عقید و احترام سے منائے گئے جس میں امن و محبت کا پیغام دیا گیا۔ عاشورہ کے دن ممتاز آباد میں سنی بھائی نے 50من حلوے کی دیگ تیار کرکے اہل تشیع اور اہلسنت سے تعلق رکھنے والے بھائیوں میں تقسیم کی اور اہل بیعت سے بھرپور محبت کا اظہار کیا ۔

صرف یہ ہی نہیں ملتان میں عاشورہ کے حوالے سے 44 مین لائنسں داران میں سے 41 بھی سنی برادری کے بھائی ہیں جبکہ چوکبازرا ملتان کے  200سالہ قدیمی سبیل سمیت دیگر درجنوں سبیلیں بھی عاشورہ کے دن سنی برادری کی جانب سے لگائی جاتیں ہیں جبکہ استاد اور شاگرد کے قدیمی تعزیوں کی تیاری سے لے کر جلوسوں میں شرکت کے عمل کے دوران سنی برادری اپنے اہل تشیع بھائیوں کے ہمراہ پیش پیش رہتی ہے اور اہل بیعت سے بھرپور محبت کا اظہار کرتی ہے ۔

 اس سال ملتان میں12ربیع الاول کے موقع پر مختلف فرقوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر امن و محبت کا خوب پیغام دیا۔ ملتان کے علاقے شاہ رکن عالم کے مقامی میرج ہال میں تمام مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء،ہندو،سکھ اور کرسچن کمیونٹی نے محفل میلاد میں بھرپور شرکت کی،سکھ برادری سے مہندر سنگھ،امریندر سنگھ،ہندو برادری سے اجے شکلا اور کرسچن کمیونٹی سے جان پال اور فادر جمیل امتیاز نے شرکت کی اور مسلمان بھائیوں کے نہ صرف دل جیت لیے بلکہ امن و محبت کا بھی بھرپور پیغام دیا جبکہ ایک محفل کا وہ لمحہ قابل دید تھا جب سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ نے نعت پڑھ کے حاضرین سے خوب محبت سمیٹی۔۔

جبکہ دوسری جانب اس سال کرسمس کی تقریبات میں بھی  مسلمان بھائی پیش پیش رہے اور ملتان کے علاقے جمیل آباد میں سید کاظم علی کی رہائش گاہ پر خصوصی طور پر کرسمس کا کیک بھی کاٹا گیا جس میں مسلمان اور کرسچن کمیونٹی کے افراد نے بھرپور شرکت کرکے امن و محبت کی مثال قائم کی جبکہ شہر میں اور بھی اسی طرح کی دیگر تقریبات نے امن قائم رکھنے اور آپسی محبت کو بڑھانے میں اپنا کردار َبھرپور طریقہ سے ادا کیا۔

About Author

Leave A Reply