!ملتان میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک  چھت کے نیچے رہنے لگے

0

 ملتان (رپورٹ: مرینہ خان) یہاں کا شیلٹر ہوم امذہبی ہم آہنگی اور رواداری  کی بہترین مثال بنا ہوا ہے، جہاں اس میں ہندو اور مسلمان ناصرف اکھٹے ایک  چھت کے نیچے رہ رہے ہیں بلکہ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ اس شیلٹر ہوم کی ایک اور خاص بات جو مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے یعنی ہندو اور مسلمان ایک ہی چھت تلے اپنے اپنے مذہبی فرائض کی انجام دہی بھی کرتے ہیں۔
صوبہ  سندھ کا رہنے والا دلشادرام جو مذہبی لحاظ سے ہندو ہے اس نے شیلٹر ہوم کے ایک کونے کو اپنی عبادت گاہ بنا رکھا ہے جہاں وہ پوجا پاٹ کے ساتھ کبھی کبھار بھجن بھی گاتا ہے۔اس کی عبادت میں وہاں موجود مسلمان کبھی بھی دخل اندازی نہیں کرتے بلکہ شیلٹر ہوم کے نگران ذیشان احمد کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار دلشاد پرساد بھی یہاں پر موجود افراد میں  تقسیم کرتا ہے جسے مسلمان خوشی خوشی کھاتے ہیں۔

ذیشان کے مطابق فراغت کے لمحات میں تو ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے مذہب اور اس سے جڑی رسومات کے بارے میں بھی دریافت کرتے ہیں، خاص طور پر ہنومان کے مورتی جو دلشاد نے اپنی عبادت گاہ کی جگہ پر رکھی ہوئی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پھر پورے انہماک سے سنتے ہیں۔ ذیشان نے بتایا کہ اس کے علم میں ابھی تک ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ جب کسی نے ایک دوسرے کے مذہب کا یا اس سے جڑی کسی رسم کا مذاق اڑایا ہو۔
پچھلے کچھ عرصہ سے شیلٹر ہوم میں اپنے شب و روز گزارنے والے دلشاد نے بتایا کہ یہاں پر ایک کونہ اس کے لئے تقریباً مختص کر دیا گیا ہے جہاں پر اپنی منشاء کے ساتھ بنا کسی رکاوٹ یا تکلیف کے اپنے مذہبی فرائض انجام دیتا ہے۔دلشاد کے لئے یہ وقت اپنے گھر والوں سے دوری، محنت مزدوری کی سختیاں،اور معاشی تنگدستی جیسی مشکلات سے لڑنے میں صرف ہو رہا ہے لیکن جو اسی سب سے زیادہ راحت اور اطمینان بخشتا ہے وہ شیلٹر ہوم کا ماحول اور یہاں پر موجود اس کے شب و روز کے ساتھیوں کی موجودگی ہے۔
دلشاد کے ساتھ وقت گزارنے والے شمعون نے بتایا کہ جیسے جیسے دلشاد کے ساتھ وقت گزرا تو دوسرے مزاہب کے خلاف  تعصب تو ختم ہوا ہی مگر اب ہماری ایسی دوستی ہو گئی کہ ہم اکھٹے ایک ہی برتن میں کھاتے ہیں۔شمعون نے ہنستے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار جب کچھ پیسے بچ جائیں تو وہ دلشاد کی مذہبی رسومات کے لئے لڈو بھی خرید لاتا ہے جس وہ سب مل کر کھاتے ہیں۔
مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضاء میں رب نواز بھی پورا پورا شریک ہوتا ہے جس کے فرائض میں شیلٹر ہوم کی سیکورٹی اور نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہے لیکن اب وہ دلشاد اورشمعون کی محفل کا ساتھی بھی ہے۔رب نواز کہتا ہے کہ بظاہر یہ جگہ ضرورت مندوں کے لئے عارضی چھت اور پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے ہے مگر یہاں پر اب بلا تفرئق محبتیں بھی بانٹی جاتی ہیں۔

ہم نہ صرف اکھٹے وقت گزارتے ہیں بلکہ مشکل وقت میں اگر کسی کو ضرروت ہو تو ایک خاندان کے طرح ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔رب نواز کے مطابق معاشی تنگدستی تو وہاں پر موجود ایک شخص کے شہرے پر عیاں ہے ہی لیکن اس محرومی کو اب یہاں کی محبتوں بھری فضاء کم ضررو کرتی ہے۔یہاں پر نہ کوئی ہندو ہے اور نہ مسلمان بلکہ ایک خاندان بستا ہے۔

About Author

Leave A Reply