مشیر اطلاعات کی جانب سے مدیران کے مسائل حل کرنے کے لئے کمیٹی بنانے کا اعلان

0

 کراچی (ای این این ایس) وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے  سی پی این ای کی جانب سے پیش کردہ مسائل کے حل کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ڈو مور کے مطالبات کرتے تھے اب ان کو سمجھ آگئی ہے کہ نو مور  اور وہ اب پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر امن  کے لیے  بات چیت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کائونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرس(سی پی این ای)  کی جانب سے  پیر کے روز کراچی میں منعقد کردہ  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ذمہ دار میڈیا ہی ملکی بیانیہ کو درست سمت میں لیکر چل سکتا ہے اور کہیں بھی کوئی غیر ذمہ داری ہوئی تو اس سے ملکی بیانیے کو  نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پی این ای کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے حل کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جس میں حکومت کی طرف سے سندھ اسیمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس  شمیم نقوی اور قومی اسمبلی میں اطلاعات کی قائمہ کمیٹی کی رکن صائمہ خان رکن  ہونگے جبکہ دو اراکین سی پی این ای کی جانب سے ہوں گے۔

اس سے قبل سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے مشیر اطلاعات کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو سیلف سینسرشپ جیسے سنگین صورتحال کا سامنا ہے ، اس صورتحال کے تدارک کے لئے مناسب اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد  اور  ذمہ دار  میڈیا ہی ملک میں جمہوری کلچر کے استحکام اور سماجی، سیاسی اور معاشی ارتقاء کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا  ہے، اس حکومت کو چاہیے کہ اخبارات ، جرائد و خبر رساں اداروں کو    درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔

سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے حکومت کی جانب سے اشتہارات کے واجبات کی ادائگی براہ راست اخبارات کو کئے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ  اخبارات کو واجبات ادائیگی کا عمل مزید تیز کیا جائے۔

 ان کا  کہنا تھا کہ اشتہارات میں مقامی اور علاقائی کوٹہ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عمل بھی کیا جائے، انہوں  نے مزید کہا کہ  اشتہارات کی تقسیم میں سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کیا جارہاہے ۔

 نیوز ایجنسیز کو ملنے والی گرانٹس بحال  کرنے کے علاوہ صحافیوں کو ملنے والے ہیلتھ کارڈس میں سی پی این ای اراکین کو بھی شامل کیا جائے، تو بہتر ہوگا۔

سی پی این ای کی جانب سے گزارشات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جبار خٹک کا کہنا تھا کہ عامل صحافیوں کے لئے پی آئی اے اور ریلوے رعایتی کارڈ کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ  عامل صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہو۔ ڈاکٹر جبار خٹک نے تجویز دی کہ ویج بورڈ ایوارڈ میں کیٹیگریز کا تعین ادارے کی آمدنی کے حساب سے کیا جائے تو مسائل نہیں پیش آئینگے۔

وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اپنے جوابات میں کہا کہ ہم چاہتے  ہیں کہ میڈیا مضبوط ہو اور اجتماعی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں لیکن کچھ لوگ ذاتی مسائل کو اجتماعی مسائل پر اہمیت دیتے ہیں جبکہ انفرادی مسائل کو اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اجتماعی اور حقیقی مسائل کمیٹی کے توسط اور ممکن عرصے میں حل کیا جائے گا۔

انہوں نے سی پی این ای کی جانب سے میڈیا اکیڈمی کے قیام کی تجویز کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس میں حکومت ہر ممکن اپنا تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میڈیا انڈسٹری کے محدود یا مسائل سے دوچار ہونے کا سوال ہے تو ہمیں قرضوں کے سمندر میں ڈوبی معیشت ملی اور ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشا تھا لیکن حکومت نے ملک کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے مناسب اور ضروری اقدامات کئے۔

مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آجر اور اجیر کے درمیان  فاصلوں کی وجہ سے بھی میڈیا مسائل کا شکار ہے کیونکہ عالمی سطح پر بڑے ادارے کام کر رہے ہیں اور وہاں  بھی صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو پاکستان میں پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویج بورڈ ایوارڈ پر بھی عملدرآمد کرنے کے لیے جلد ہی اجلاس بلائے جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے ہمیں اپنے ذخائر کی حالت بہتر کرنا  تھی اس لیے سخت فیصلے کرنا ناگزیر تھا۔

اس سے قبل  سی پی این ای کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود نے سی پی این ای میڈیا اکیڈمی کے قیام کے حوالے سے مشیر اطلاعات کو آگاہ کیا اور حکومت سے اس ضمن میں حمایت کی درخواست کی۔

اس موقع  پر سندھ اسیمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، پی ٹی آئی  رہنما صائمہ خان موجود تھے، جبکہ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، نائب صدر انور ساجدی، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی،سینئر اراکین سعید خاور، طاہر نجمی، مقصود یوسفی، غلام نبی چانڈیو، عثمان عارب ساٹی، محمد طاہر، عارف بلوچ، عبدالرحمان منگریو، ڈاکٹر ایوب شیخ، میاں طارق جاوید، شیر محمد کھاوڑ، مظفر اعجاز، محمد عرفان، مدثر عالم، بشیر احمد میمن، محمود عالم خالد، افضل وارثی، رضوان شاہ، محمد سمیع خان، ناصر خٹک، سید محمد رضا شاہ، عاطف صادق شیخ، سلمان قریشی، صحبت برڑو، کاشف حسین، لالا حسن، منزہ سہام  اور  فرزانہ سمیت بڑی تعداد میں اخبارات کے ایڈیٹروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔

About Author

Leave A Reply