مذہبی عبادت گاہ کیلئے جگہ کا عطیہ

0

ملتان(رپورٹ: شیزہ کوثر)ملتان کے علاقے  بوسن اتاڑ کے ایک بڑے زمیندار نے ایک دوسرے مذہب کے پیروکار وں کو ان کی  عبادت گاہ قائم کرنے کیلئے اپنی زمین کا کچھ  رقبہ عطیہ   دیکر رواداری کی ایک  عظیم مثال قائم کردی  جو نہ صرف اہل ملتان بلکہ ملک کے تمام لوگوں کے لئے ہم آہنگی کی ایک  بہترین مثال ہے۔

ملتان کےنواحی علاقے بوسن ٹاون کی یونین کونسل بوسن اتاڑمیں تقریباً 300 گھروں پر مشتمل 1500 سے زائد افراد رہائش پزیر ہیں جن میں مختلف  مذاہب کے لوگ شامل ہیں ۔ ان میں سند تعداد ایسے لوگوں کی بھی  ہیں جن کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے  اپنے گھروں سے 14 کلومیٹر دور ایک دوسری  عبادت گاہ میں جانا پڑ تا تھا جس سے وہ خاصے پریشان تھے۔

پسماندگی اور مشکل حالات کی وجہ سے  اس کمیونٹی کے لوگ اپنی عبادت گاہ بنانے سے بھی قاصر تھے جس سے ان میں احساس محرومی بڑھ رہا تھا اور  دوسری عبادت گاہ دور ہونے کے باعث یہ اپنی مذہبی رسومات بھی سخت مشکل سے ادا کرپاتے تھے ۔ ضعیف اور ناتواں لوگوں باالخصوص عورتوں کا وہاں جانا مزید مشکل تھا۔

اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے علاقے کے زمیندار ملک خاور بھٹہ نے ان لوگوں کو اپنے زرعی رقبے سے 6 مرلہ کی جگہ فراہم کرنے کا اعلان کیا اور اس کی تعمیر کیلئے بھی  معاونت کرنے کا عندیہ  بھی دیا۔ اتحاد بین المذاہب اور   محبت کی ایسی مثال کم ہی  ملتی ہے کہ ایک دوسرے مذہب کے پیروکار اپنے سے مختلف مذہبی پیروکاروں کو ان کی عبادت کیلئے  جگہ فراہم کرے اور اس کی عمارت کی تعمیر کیلئے مالی معاونت کا بھی وعدہ کرے ۔

اس حوالے سے علاقے کے مکین یوسف  گل سے جب ہم نے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے میلوں دور جانا پڑتا تھا اور کبھی کبھی موسم کی خرابی کے باعث ہمیں اپنی عبادات کو موخر بھی کرنا پڑجاتا تھا جس سے ہماری دل شکنی ہوتی تھی۔  یہ اس علاقے کے رہنے والوں کا ایک دیرینہ مسئلہ تھا جسے حل کردیا گیا ہے۔ ہمیں بے حد خوشی ہے  اب علاقے کے لوگ اپنی مذہبی عبادت کی تکمیل کیلئے مشکلات برداشت نہیں کریں گے۔

 زمین عطیہ دینے حوالےسے خاور حسنین بھٹہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام لوگ اگرچہ میرے ہم مذہب نہیں ہیں مگر انسان تو ہیں ۔ اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے ۔میں شروع سے دیکھتا آ رہا ہوں کہ یہ تمام لوگ اپنی عبادات کیلئے ایک طویل مسافت طے کرتے ہیں تو میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر خود حل کروں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس  اقدام سے علاقے کے امن میں مزید بہتری اورلوگوں میں محبت بڑھے گی۔

 علاقے کے ایک اور مکین  عمران علی کا کہنا تھا  کہ یہ واقعہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ آج بھی لوگ مذہب اور عقیدے سے بالا ترہوکر اپنے ہمسایوں اور ساتھیوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔  عمرا ن کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد علاقے کا ماحول مزید پر امن ہو گیا ہے  اور رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو ئی ہے۔

About Author

Leave A Reply