متاثرین عطاء آباد جھیل کو انصاف نہ مل سکا، بیگناہ جیلوں میں قید ہیں، اب بہت ہو گیا، خاموش نہیں بیٹھ سکتے: رہنماؤں کی پریس کانفرنس

0

گلگت (ای این این ایس) آٹھ برس قبل متاثرین عطاآباد جھیل کے وادی ھنزہ میں اپنے مطالبات کے حق میں پرامن مظاھرے کے دوران ھنزہ پولیس کی بلاجواز اندھا دھند فائرنگ کے دوران دو افراد (باپ بیٹا) کی ھلاکت و دیگر مظاہرین کے زخمی ہونے کے انسانیت سوز واقعے کے بعد پولیس نے اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کے لئے سینکڑوں مظاہرین کے خلاف دھشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے درجنوں متاثرین کو گرفتار کیا۔

گرفتارشدگان میں مقبول عوامی رھنما بابا جان سمیت 14 مبینہ ملزمان کو مجموعی طور پر سزائے قید اور فی کس بیس بیس لاکھ جرمانے کی سزا سنادی گئی، جبکہ ھنزہ سانحے کی عدالتی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی جوڈیشل کمیشن بھی قائم کردیا گیا جس کی رپورٹ 8 برس گزرنے کے باوجود تاحال منظر عام پہ نہیں لائی گئی

سانحہ ھنزہ کے حوالے سے متاثرہ خاندان اور عوام ھنزہ اس عرصے کے دوران بے گناہ اسیروں کی رھائی، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے لانے اور ھنزہ پولیس کے فائرنگ میں ملوث اھلکاروں کو قانون کے مطابق سزادینے کے مطالبات کے تحت گزشتہ 8 برس سے سراپا احتجاج ہیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محرم الحرام کے بعد سے بے گناہ اسیروں کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری تک ہنزہ اور اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین عطاء آباد گھر اور روٹی مانگ رہے تھے بدلے میں آ تشی گولیاں اور کفن دیے گئے۔ نہتے شہریوں پر فائرنگ کرنے والے پولیس کو بے گناہ قرار دے ترقیاں بھی دی گئیں اور 14 لوگوں کو 70 سال قید اور بیس، بیس لاکھ جرمانہ کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔
اتوار کے روز مقامی ہو ٹل میں اسیران ہنزہ رہائی کمیٹی کے صدر انعام کریم، جنرل سیکرٹری ناصر، پریس سیکرٹری شیر علی اور شمشادحلیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ہنزہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیش آیا جس میں باپ بیٹا شہید اور دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے اس وقت کے وزراء نے دوسرے دن ہنزہ
آکر اس واقعے کو حکومت وقت اور پولیس والوں کی غلطی قرار دے کر عوام سے معافی مانگی تھی۔ جسٹس محمد عالم کی انکوائری رپورٹ کا آٹھ سال گزرنے کے باوجود منظر عام پر نہ لانا مقامی انتظامیہ کی بدیانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی فیٹکس اینڈ فائنڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور HRCP کی سابق چیئرپرسن مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے ھنزہ کا دورہ کرکے اس کیس کو سیاسی بددیانتی پر مبنی قرار دیا تھا اور اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ سابق صدر ممنون حسین، موجود صدر ڈاکٹر عارف علوی، سابق وزیراعظم نواز شریف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سمت دیگر کئی نمایاں شخصیات نے اس کیس کو ہنزہ کے نوجوانوں پر ظلم قرار دے کر تمام اسیران کو باعزت بری کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان اور سابق گورنر جی بی میر غضنفر علی خان نے بھی متاثرین و اسیران کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا، مگر آ ج تک ان مقتدر شخصیات میں سے کسی کا وعدہ وفا نہ ہو سکا۔
متاثرین نے کہا اسیرشکرالللہ بیگ کی چھوٹی بہن نے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کی۔ قیدی سلمان کریم جیل کی اذیت سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے اور پمز اسلام آباد میں زیر علاج ہے۔
فضل کریم نے بھی خودکشی کی اور گوہر حیات دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جبکہ اسیر بابا جان شدید بیمار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ہمارے بے گناہ عزیز کبھی رہا نہیں ہوں گے۔ آج تک ملک کے تمام آ ئینی اداروں کے سربراہان کے وعدوں پر یقین کر کے انصاف کے لئے منتظر رہے مگر اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
اسیروں کی رہائی کے لئے باقاعدہ تحریک کا آغاز ہو چکا ہے، جو منطقی انجام تک جاری رہے گا۔

About Author

Leave A Reply