عذیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ: زرداری اور فریال کا نام نہیں، 150سے زائد قتل میں ملوث، باپ کے قتل کا انتقام لیا

0

کراچی(ای این این ایس/ م ڈ) سندھ حکومت نے عذیر بلوچ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو پیر چھ جولائی کو عام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کو اس رپورٹ کی دستخط شدہ کاپی حاصل ہوئی ہے، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ملوث ہونے کا کوئی ذکر شامل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس رپورٹ کی دستخطوں کے بغیر کچھ نقول میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے کردار سے متعلق بھی دعوے کیے گئے۔
اس سے قبل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے بھی نجی ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت کچھ ہے، جس کی وجہ سے سندھ حکومت اس رپورٹ کو عام نہیں کر رہی ہے۔
رپورٹ میں عذیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے۔
رپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خوف کی علامت عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں ایکشن، تھرل اور سسپنس سب ہی کچھ ہے جو اس کے بیان کو بالی وڈ ایکشن مووی کا سکرپٹ بنا دیتی ہے۔
’پولیس موبائلوں میں سوار پولیس افسر اور گینگسٹر نے تین لوگوں کو اغوا کیا، ان تین لوگوں کو ایک گودام میں قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات گٹر میں پھینک دیں۔‘
خیال رہے کہ یہ بالی وڈ کی انڈر ورلڈ پر بنی ہوئی کسی فلم کا سین نہیں ہے بلکہ لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عذیر جان بلوچ کا اعترافی بیان ہے، جو اس نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کو دیا۔
جن تین لوگوں کو قتل کیا گیا ان میں ارشد پپو اور اس کے دو ساتھی شامل تھے۔ ان پر عذیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام تھا۔
پولیس کے ساتھ پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی نے اپریل 2016 کو عذیر جان بلوچ کا بیان رکارڈ کیا تھا۔
والد کے قتل کا بدلہ
جے آئی ٹی کے مطابق عذیر بلوچ 10 اکتوبر 1977 کو لیاری کے علاقے سنگو لائن میں پیدا ہوئے اور مقامی کالج سے انٹر تک تعلیم حاصل کی۔ عذیر سنہ 2000 میں اپنے والد فیض محمد بلوچ کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شامل ہوئے۔
عذیر بلوچ نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں 2001 میں لیاری کے ٹاؤن ناظم کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
عذیر کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب سنہ 2003 میں ان کے والد فیض محمد بلوچ کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا اور بدلہ لینے کے لیے عذیر نے رحمان ڈکیت کے گینگ کو جوائن کر لیا۔
عذیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام ارشد پپو گینگ پر آیا تھا۔

ارشد پپو کو لیاری کی گلیوں میں ایک مشتعل ہجوم نے مار مار کر ہلاک کیا تھا
ارشد پپو کا انجام
عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مار کر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 کو 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، دیگر اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو اغوا کر لیا۔ یہ واردات پولیس موبائلوں کے ذریعے کی گئی جن کا انتظام انسپکٹر جاوید نے کیا تھا۔
جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں عذیر نے بتایا کہ ان تینوں کو آدم ٹی گودام لے جایا گیا جہاں انھیں قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات کو گٹر میں پھینک دیا گیا.
اپنے سب سے بڑے مخالف ارشد پپو کو راستے سے ہٹانے کے بعد عذیر بلوچ خود لیاری کا کنگ بن گیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق عذیر سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2008 تک مختلف الزامات میں سینٹرل جیل میں قید رہا۔
سنہ 2008 میں رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عذیر بلوچ نے گینگ کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد رکھی۔
قتل کے 198 واقعات
جے آئی ٹی کے مطابق عذیر بلوچ نے بالواسطہ یا بلاواسطہ قتل کے 198 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں گینگ وار کے علاوہ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے قتل بھی شامل ہیں۔
عذیر بلوچ نے بتایا کہ سنہ 2012 کو ڈالمیا سے حاجی اسلم اور اس کے دو بیٹوں کو طلب کیا اور انھیں بابا لاڈلہ کے حوالے کیا تاکہ منشیات فروش حنیف بلوچ کے قتل کا بدلہ لے سکیں بعد میں اس کے ساتھیوں نے تینوں کو قتل کرکے لاش نامعلوم جگہ پر دفنا دی۔
کباڑی مارکیٹ میں ہونے والی ہلاکتوں کا اعتراف
عذیر بلوچ نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ وہاں 11 تاجروں کے قتل کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور تشدد کے واقعات میں مزید چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ 19 اکتوبر 2010 کو کباڑی مارکیٹ میں اس کے کارندوں جبار لنگڑا، نثار، فدا اور دیگر نے ایک سیاسی جماعت کے 11 ہمدردوں کو قتل کیا تھا، جو اسی جماعت کو چندہ دیتے تھے۔
عزیر بلوچ نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے.
پولیس اور رینجرز پر حملے
عذیر بلوچ نے چار پولیس اہلکاروں اور دو رینجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے۔ جے آئی ٹی کو عذیر نے رینجرز کے حوالدار منیر اور حوالدار اعجاز کے بارے میں بتایا ہے کہ مارچ 2013 میں شیر محمد شیخ عرف شیرو جو ایم کیو ایم الطاف کا کارکن تھا، نے بتایا کہ اس نے رینجرز کے دو اہلکاروں کو اغوا کیا ہے، جو اس کے گینگ کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے اور ان کا تعلق رینجرز کے انٹیلیجنس ونگ سے ہے۔
عذیر بلوچ کے بیان کے مطابق اس نے انھیں دو روز انتظار کرنے کا حکم دیا۔ رینجرز حکام نے اس سے رابطہ کر کے لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
ملزم نے شیرو کو دونوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ قتل اس طرح کیے جائیں کہ لگے کہ ایم کیو ایم اس میں ملوث ہے۔
2010 میں پولیس تھانے کلری بغدادی پر حملہ
عذیر کے مطابق انسپکٹر آصف منور نے بھتہ بڑھانے کے لیے شیراز کامریڈ کے جوئے کے اڈے پر چھاپا مارا۔ اس نے انسپکٹر آصف منور کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ چھاپا کیوں مارا ہے تو اس نے بدتمیزی سے جواب دیا۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے کارندوں کو حملہ کرنے کا کہا جس میں پولیس کی بکتر بند کو نقصان پہنچا۔
سنہ 2010 میں بھتے کے معاملے پر انسپکٹر چاکیواڑہ بابر ہاشمی اور ڈی ایس پی سرور کمانڈو نے جبار لنگڑا کے اڈے پر چھاپا مارا، جس کے بعد اس نے جدید اسلحے ایس ایم جیز، ایل ایم جیز اور بموں کے ساتھ پولیس سٹیشن چاکیواڑہ، پولیس سٹیشن کلاک کوٹ اور پولیس کوارٹرز پر حملہ کیا۔
پولیس تعلقات اور آپریشن
عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس کے پولیس کے ساتھ گہرے تعلقات بھی رہے ہیں۔ اس نے ایس پی اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرایا اس کے علاوہ سات انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو لیاری کے مختلف تھانوں پر ایس ایچ او تعینات کرایا تاکہ وہ اس کی اور اس کے کارندوں کی مدد کرسکیں، تاہم جے آئی ٹی میں یہ واضح نہیں ہے کہ کس کے ذریعے یہ تبادلے ہوئے۔
عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ چھ نومبر 2012 کو اس کے دوست امین بلیدی نے لیاری ٹاؤن کے نائب ناظم ملک محمد خان کو لی مارکیٹ کے قریب قتل کر دیا کیونکہ وہ بلوچ مخالف بیانات دیتا تھا۔
ملک محمد خان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، ان کی ہلاکت کے بعد لیاری میں آپریشن شروع ہوا۔
عذیر بلوچ نے چیل چوک آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ پولیس کو چیل چوک تک محدود کریں، وہاں فائرنگ کے تبادلے میں چار، پانچ پولیس اہلکار اور عام شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔
ایرانی شہریت کا اعتراف
عذیر بلوچ نے دوران تفتیش ایرانی شہریت کا بھی اعتراف کیا ہے۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عذیر نے اقرار کیا ہے کہ ان کی رشتے دار خاتون عائشہ ایران کی مستقل رہائشی ہیں، جن کے پاس پاکستان اور ایران دونوں کی شہریت ہے۔ ان کا بیٹا 14 سال کی عمر میں انتقال کرگیا تھا۔ سنہ 1987 میں ملزم کی رشتے دار نے ملزم کی تصویروں سے ایران میں اپنے بیٹے کے نام سے جعلی برتھ سرٹیفیکٹ بنوایا۔
ملزم 2006 میں لیاری میں آپریشن کی وجہ سے کزن کے ہمراہ ایران چلے گئے جہاں انھوں نے اپنا ایرانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوایا۔
عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ سنہ 2014 میں ایران کے شہر چاہ بہار میں انھیں حاجی ناصر نامی جاننے والے نے پیشکش کی کہ اس کے ایرانی انٹیلیجنس سے اچھے تعلقات ہیں، وہ ان کی ملاقات کا انتظام کر سکتا ہے۔ ملزم کی مرضی سے اس ملاقات کا انعقاد کرایا گیا۔ جس میں ایرانی انٹیلیجنس حکام نے پاکستان کے فوجی افسران اور تنصیبات کی معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عذیر بلوچ فوجی تنصیبات اور افسران کی خفیہ معلومات اور نقشے غیر ملکی ایجنسی کے افسران کو فراہم کرنے میں ملوث ہیں اسی لیے سفارش کی جاتی ہے کہ ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
اس سفارش کے بعد عذیر بلوچ کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور ملٹری ٹرائل کورٹ سے بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پیپلز پارٹی سے قربت اور دوری
یاد رہے کہ لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار رحمان ڈکیت کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عذیر بلوچ کا نام سامنے آیا تھا اور انھوں نے لیاری امن کمیٹی کی ذمہ داری سنبھالی تھی، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی ہمدرد سمجھی جاتی تھی۔
پیپلز پارٹی دور میں سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کھل کر اس کی حمایت کرتے تھے۔
امن کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی اتحادی حکومت میں تنازع کی وجہ بنی رہی، جسے بعد میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
لیاری میں عذیر بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے متبادل اپنی سیاسی پوزیشن بنانے کی کوشش کی اور ان کے نامزد کیے گئے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیے گئے۔
وہ پیپلز پارٹی کے قریب رہے اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ناراضی کے ساتھ وہ بھی دور ہوتے گئے، ایسی کئی تصاویر سامنے آئیں جن میں وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ موجود دیکھے گئے یا یہ رہنما عذیر کی دعوت میں شریک ہوتے۔
جے آئی ٹی میں عذیر بلوچ کے جرائم کی معاونت اور تاوان کی وصولی وغیرہ کے تو اعتراف شامل ہیں لیکن کسی سیاسی شخصیت سے تعلقات یا ہدایات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
(رپورٹ ریاض سہیل، بشکریہ بی بی سی اردو۔کام)

About Author

Leave A Reply