سورہ جیسی رسم پر پابندی لگانے والے ملک عطاء اللہ کی یاد میں! تحریر: سدھیر احمد آفریدی

0

قبائلی معاشرے میں مثبت اور منفی روایات اور طور طریقے ہیں لیکن آفریدی قبائل نے بتدریج اپنے منفی روایات اور رسم و رواج کو بتدریج ختم کرکے ارتقاء اور مہذب دنیا کے زریں اصولوں کو اپنا کر اپنا ایک تشخص قائم کر دیا ہے کوئی بھی انسانی معاشرہ ابتداء میں مہذب نہیں تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جس معاشرے نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے وہ تہذیب یافتہ بن گیا آفریدی قبیلے کی درخشندہ اور تابناک روایات، دستور اور طور طریقے ایسے نہیں کہ وہ تحریری شکل میں یا ایک ڈاکومنٹ کے طور پر موجود ہوں بلکہ روایات اور جرگوں کی شکل میں مشران اور بڑوں سے نیچے نوجوان نسل تک منتقل ہوتے ہیں اور وہ جو کہتے ہیں کہ کلچر مذہب سے مضبوط تر ہوتا ہے اس کی عملی تصویر آفریدی قبیلے میں دیکھی جا سکتی ہے جو کسی صورت اپنی روایات، رسم و رواج پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور ان پر بجا طور پر فخر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آفریدی قبائل اسلام اور جدید دنیا کے تقاضوں اور اصولوں سے بے خبر ہیں آفریدی قبائل کا کوئی حجرہ، مہمان خانہ بمشکل نظر آئیگا جہاں آپ کو حجرے کے اندر مسجد اور نماز کی امامت کے لئے مولوی نہیں ملینگے اسی تناظر میں چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان آفریدی یاد آگئے جنہوں نے اپنے قبائلی معاشرے کوکی خیل کے اندر سورہ جیسی قبیح رسم پر پابندی لگائی سورہ ایک بدنام زمانہ رسم ہے تاہم کچھ لوگ اب بھی اس رسم کے حق میں دلائل دیتے ہیں کہ اچھی رسم تھی جس کی بدولت دو خاندانوں کی طویل دشمنی ختم ہو جاتی ہے چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان آفریدی 16 جولائی کو 68 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے مرحوم کے والد ملک ولی خان بھی کوکی خیل قبیلے کے چیف تھے جو کہ ایک دلیر اور بہادر انسان تھے ملک عطاء اللہ جان کوکی خیل 1988 میں اپنے والد ملک ولی خان کوکی خیل کے انتقال کے بعد چیف آف کوکی خیل چن لئے گئے تھے وہ قد و قامت یعنی جسمانی لحاظ سے تو اپنے والد کی طرح لمبے چوڑے نہیں تھے لیکن بہادری، مہمان نوازی، آفریدی روایات اور رسم و رواج کی پاسداری میں اپنے والد سے بڑھ کر تھے جس طرح ملک ولی خان کوکی خیل پولیٹیکل ایجنٹ اور بیوروکریسی کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نہیں ہوا کرتے تھے بلکل اسی طرح کسی نے مرحوم ملک عطاء اللہ جان کوکی خیل کو بھی سرکاری دفاتر اور درباروں میں نہیں دیکھا ہوگا میں نے خود دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے کہ جو بھی خیبر ایجنسی میں نیا پولیٹیکل ایجنٹ تعینات ہوتا وہ خود جاکر چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان آفریدی سے ان کے حجرے میں ملاقات کرتا باالفاظ دیگر ملک عطاء اللہ جان کوکی خیل بہترین صفات کے مالک تھے، وہ حد درجہ دلیر، جرآت مند، مہمان نواز، انصاف پسند اور مذہبی رجحان رکھنے والا انسان تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ آفریدی رسم و رواج کا بھی پابند اور قائل تھا تاہم جہاں کوئی آفریدی رواج اسلام کی زد اور مخالفت میں آتا تو وہ روایات اور رسم و رواج چھوڑ کر اسلامی اصولوں کو اپنا کر فیصلہ کرتے تھے اور اس کی درخشاں مثالیں یہ ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سورہ جسی رسم، جواء کھیلنے، سود کرنے اور شراب پینے پر پابندی لگائی تھی یہ الگ بات ہے کہ چوری چھپکے یہ سارے جرائم پھر بھی ہوتے رہے لیکن کھلے عام یہ جرائم کرنے کی کسی میں جرآت نہیں تھی میری معلومات کے مطابق خاص تیراہ میدان میں آفریدی قبائل باقاعدہ شریشتہ،قومزنہ اور تڑون رکھتے ہیں یعنی کہ وہاں وقتاً فوقتاً آفریدی قبائل کے مشران اور کشران قومی جرگے منعقد کرکے اپنے مسائل اور علاقائی تنازعات کا حل آفریدی روایات اور رسم و رواج کی روشنی میں ڈھونڈ نکالتے ہیں اور اسی طرح تحصیل باڑہ کے اندر بھی آفریدی قبائل کے مشران اور ملکان پیش آمدہ حالات اور واقعات پر جمع ہو کر روایتی جرگے کیا کرتے ہیں لیکن جتنا مضبوط شریشتہ،قومزنہ اور جرگہ کوکی خیل قبیلے کا ہوتا ہے وہ شاید دیگر آفریدی قبائل میں نظر آتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان کا ذاتی کردار اور خاندان کا اثر و رسوخ رہا ہے جس نے کوکی خیل قبیلے کو منظم اور متحد رکھا ہے خاندانی، قومی اور سیاسی اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن کبھی نہیں سنا کہ کوکی خیل قبیلے میں کسی نے اپنے چیف کی سرداری اور مشرانے کو چیلنج کرتے ہوئے مخالف سمت میں کھڑا ہو لیکن ایسا ہر گز بھی نہیں تھا کہ مرحوم ملک عطاء اللہ جان کوکی خیل نے کبھی قوم، خاندان یا کسی فرد پر اپنا فیصلہ مسلط کیا ہو چونکہ وہ آفریدی روایات اور رسم و رواج کے ساتھ ساتھ اسلام سے بھی باخبر تھے اس لئے قومی شریشتہ اور قومزنہ کے منتخب عمائدین، مشران اور ذیلی کمیٹیوں کے ذریعے سارے مسائل اتفاق رائے اور مشاورت سے حل کیا کرتے تھے اور کبھی کسی فریق کے ساتھ جرگے کے دوران ظلم اور ناانصافی نہیں کی اور نہ ہی کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ مرحوم نے رشوت لی ہو یا کبھی مظلوم کے مقابلے میں ظالم کا ساتھ دیا ہو شاید یہی وہ صفات ہیں جن کی بدولت اللہ نے ملک مرحوم کو ایک رعب اور دبدبہ عطاء کیا تھا مجال ہے ان کے حجرے میں ان کے خاندان کا کوئی فرد ان کی موجودگی میں بولتا مگر یہ حق صرف مہمان کو حاصل تھا کہ وہ کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان کریں ان کے حجرے کے دسترخوان پر ہمیشہ مہمان کھاتے پیتے تھے چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان کو خریدنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا دہشت گردی کی جنگ میں بھی انہوں نے اسلام اور پاکستان پر سمجھوتہ نہیں کیا اور بقول اکرام اللہ جان کوکی خیل نہ تو کوئی ڈالرز سے اور نہ کوئی ریال سے ملک مرحوم کے ضممیر و ایمان کو خرید سکے اور اپنے قبیلے کے تیراہ اور جمرود دونوں میں بیک وقت قیادت کیا کرتے تھے اور پورا قبیلہ ان کے کنٹرول میں تھا تیراہ راجگل اور مہربان کے علاقے اور نیچے جمرود میں اپنے قبیلے کو حکم دیا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں نہ کسی کی مخالفت کریں اور نہ کسی کا ساتھ دیں اور اگر کوئی بطور مہمان آئے تو مہمان نوازی میں کمی نہ ہونے دینا لیکن تخریب کاری اور دہشت گردی میں کسی کا ساتھ نہ دینا اور آخر وقت تک انہوں نے اپنے قبیلے کو بڑی حد تک بچائے رکھا اور غیر جانبدار رہے لیکن پھر بھی دہشت گردی کی بے رحم جنگ میں کوکی خیل قبیلے کو بھی کافی نقصان پہنچا بڑے محترم اور جرگہ باز مشران اور ملکان دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھ کر جام شہادت نوش کر گئے جن میں ملک احمد خان کوکی خیل اور ملک گلی شاہ کوکی خیل ودیگر نامی گرامی شخصیات شامل ہیں اور سب سے بڑھ کر چیف آف کوکی خیل کے بیٹے ملک ابراہیم جان کوکی خیل کو بروز جمعہ 14 جنوری 2010 کو ایسے موقع پر شہید کر دیا گیا جب وہ شادی کی بارات میں اپنے اہل خانہ کو لیکر گاڑی چلا رہے تھے اگرچہ آفریدی روایات میں کوئی اپنے دشمن پر بھی گولی نہیں چلاتا جب ان کے ساتھ خواتین موجود ہوں دہشت گردی کی اس جنگ میں ملک عطاء اللہ مرحوم کا حجرہ بھی مسمار ہوا تھا لیکن وہ اپنے فیصلے سے دستبردار نہیں ہوئے اور نہ ہی اپنے قبیلے کو دہشت گردی کی جنگ میں جھونک دیا اور شاید یہ ملک صاحب کا جرآت مردانہ فیصلہ تھا کہ کوکی خیل قبیلے کے لوگ مہاجرت پر مجبور نہیں ہوئے مختصر یہ کہ کوکی خیل قبیلے کے اندر ملک عطاء اللہ جان کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا چاہے وہ کسی کی حمایت میں تھا یا کسی کی مخالفت میں ہوتا تھا مرحوم چیف آف کوکی خیل ملک عطاء اللہ جان کی وصیت کے مطابق ان کے تمام خاندان اور قبیلے کے لوگوں نے ملکزادہ معاض کوکی خیل کو قبیلے کا سردار چن لیا اور ان کو مشرانے اور سرداری کی پگڑی پہنائی ملک معاض کی تاریخ پیدائش 22 جون 2001 ہے اور گریجویشن کرنے والے باصلاحیت نوجوان ہیں اب ان کا امتحان ہے کہ وہ اپنے خاندان اور قبیلے کو کس طرح منظم اور متحد رکھتے ہیں۔

About Author

Leave A Reply