سندھ میں 16 لاکھ بچے اسکولوں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں: حکومت کا اعتراف

0

 کراچی (ای این این ایس) سندھ ہائی کورٹ میں سندھ بھر کے اسکولوں میں طالب علموں کو ڈیسک فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اسپیشل سیکریٹری اسکول اینڈ ایجوکیشن عدالت میں پیش ہوئے۔

صوبے میں 16 لاکھ بچے اسکولوں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں سندھ حکومت کی رپورٹ میں اعتراف

گذشتہ 8 سال سے بچوں کے لئے ایک ڈیسک بھی نہیں خریدی،سیکریٹری اسپیشل ایجوکشن کا اعتراف

صوبے بھر میں 16 لاکھ ڈیسکس کی ضرورت ہے سیکریٹری

ہر سال بجٹ میں 6.6 ارب روپے مختص ہوتے ہیں اسپیشل سیکریٹری

عدالتی حکم امتناع کے باعث ڈیسک نہیں خریدے، اسپیشل سیکریٹری

عدالت نے 2019 سے حکم امتناع دے رکھا ہے اسپیشل سیکریٹری

صوبے میں زیادہ تر اسکول بغیر ڈیسک کے ہیں، سیکریٹری پروکیورمنٹ

ڈیسک کی خریداری کے لئے 42 ارب روپے کی ضرورت ہے ،سیکریٹری پروکیورمنٹ

افسران کے اس اعتراف پر کہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لئے ڈیسک نہیں عدالت کے پاس الفاظ نہیں ہیں ،جسٹس صلاح الدین پہنور

ہمارے پاس اسکولوں کے نام پر صرف خالی عمارتین ہیں عدالت

 اسکول کے نام پر بنائی گئی عمارتوں میں بچوں کے بیٹھے ڈیسک تک نہیں ہے ،عدالت

ایسی صورتحال میں وہ کلاس روم نظر نہیں آتے ہیں عدالت

کیا ہم بنیادی ضروریات کو فراموش کرکہ بہتر تعلیم دے سکتے ہیں ؟عدالت

کیا ہم اپنے بچوں کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام نہیں رہے ؟ عدالت

کیا ہم مختص بجٹ کو استعمال کرنے میں ناکام نہیں رہے ،عدالت

ایسی صورتحال میں ہم اکیسویں صدی میں رہنے کے دعویدار بن سکتے ہیں ؟ عدالت

رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ فرنیچر کی عدم دستیابی کے باعث 16 لاکھ بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ،عدالت

زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے سے بچوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ،عدالت

وزیر اعلی سندھ کو بجٹ میں اضافے کی درخواست کی ہے ،سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن

عدالت کی جانب سے اسکولوں کو ڈیسک فراہم کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

About Author

Leave A Reply