رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے کزن عارف وزیر جانبحق

0

وانا(ای این این ایس) ایم این اے علی وزیر کے خاندان کے سردار عارف وزیر جانبر نہ ہوسکے، پمز اسلام آباد میں جان کی بازی ہار گئے۔ محمد عارف پی،ٹی،ایم کے سرگرم رہنما تھے، 2019 کے صوبائی الیکشن میں پی کے 114 سے الیکشن بھی لڑا تھا۔
سردارعارف وزیر کا تعلق وزیر قبائل کے نامی گرامی ملک مرزاعالم خاندان سے تھا، وہ پشتون قوم پرست پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سرگرم کارکن تھے،2019 کے صوبائی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے متنازعہ نتائج میں حلقہ پی کے 114 پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
2018 میں پی ٹی ایم کے رہنماء علی وزیر پر جب 3 جون رمضان المبارک کے مہینے میں طالبان نے حملہ کیا، تو سردار عارف وزیر اس میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے، پھر 2019 کے صوبائی الیکشن کے بعد زیادہ وقت جیل میں گذارا۔

ان پر مختلف قسم کے الزامات لگائے گئے، کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، وہ اپنے لوگوں کے حقوق کیلئے ہمیشہ آواز بلند کرنے والوں میں سرفہرست رہتے تھے، وہ تین دن قبل سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان سے رہا ہوئے تھے، ان کو ان کے آبائی گاوں غواخواہ میں نامعلوم کار سواروں نے فائرنگ کرتے ہوئے شدید زخمی کردیا، مخالف گاڑی پر جوابی فائرنگ کی گئی، عینی شاہدین کے مطابق گولیاں کار کو لگی، لیکن حملہ آور بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
سردار عارف وزیر کو فوری طورپر ضلعی ہیڈکوارٹر وانا منتقل کردیا گیا، جہاں پر ڈاکٹروں نے ان کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ریفر کردیا، ڈاکٹروں نے ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتاتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کردیا،ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ان کی معمولی سرجری کے بعد مزید علاج کیلئے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تگ و دو کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور یوں وہ اپنے شہید باپ، بھائیوں، چچاوں اور کزنز کی فہرست میں شامل ہو گئے۔
ان کی فیملی کے جو افراد شہید کئے گئے ان میں سب سے پہلے برٹش گورنمنٹ کے دوران
حاجی پیرملاخان شہید کئے گئے،
(2) محمد فاروق،
(3) وزیر قبیلے کے چیف ملک مرزاعالم خان،
(4)ملک سعداللہ جان،
(5)محمد فیروزخان،
(6)نجیب اللہ خان،
(7) طارق خان،
(8)ابراھیم خان ،
(9) محمد اسحاق اور
(10) سردار محمد عارف وزیر شامل ہیں۔

About Author

Leave A Reply