حکمران بھارت سے کیوں خوفزدہ ہیں، ہمیں انسانی و جمہوری حقوق حاصل نہیں: صدر ہی پی گلگت بلتستان

0

گلگت (ای این این ایس)وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کے لئے متوقع آرڈر 2020 کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے اپنے دفتر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق نے 70سال تک انڈیا سے خوفزدہ ہوکر ہمیں ہمارے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق نہیں دیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 72 سالوں سے سیاسی جبر کا شکار ہیں اور ہماری وفاداری کو آج تک شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے , ہر چھ ماہ بعد نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس محض اس لئے منعقد کیا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی توہین کی جائے اور احساس دلایا جائے کہ ہم سیاسی محکوم اور مظلوم ہیں۔ ہمیں یہ بتانے کی برملا کوشش ہوتی ہے کہ سیاسی جدوجہد اور آئینی حق مانگنا غداری کے زمرے میں تصور کیا جاتا ہے, 72 سال گزر گئے ہماری وفاداری مشکوک نظروں سے دیکھا گیا اگر پاکستان کے حکمرانوں کو شک نہیں ہے تو IGP سے چیف سیکریٹری تک کبھی گلگت بلتستان کا شہری کیوں نہیں بن سکا۔ یہ حالات ناقابل برداشت ہیں، ہم آپکے کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے مظلومیت سہ کر خاموش ہیں۔
ایک بار پھر آرڈر 2020 کے نام پر ہماری قوم کی ساتھ ذلت کی انتہا ہوئی، اب ہم حکمرانوں کے روئے پر اعتراضات بھی نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ہم سیاسی مظلومیت کے آخری درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ ہمارے سیاسی رد عمل کو نہ جانے کن کن القابات دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے نام پر ہماری قوم کے ساتھ 72 سالوں سے ظلم روا رکھا گیا اور گلگت بلتستان کی عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ گلگت بلتستان کو حقوق دینے سے کشمیر کاز متاثر ہوگا جبکہ مودی سرکار نے ڈنکے کی چوٹ پر مقبوضہ کشمیر پر مکمل قبضہ کیا اور ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے رہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں اب جبکہ مقبوضہ کشمیر پر مودی کے عمل کے خلاف آپ نے کیا رد عمل دیا ہے یہ کشمیریوں سمیت گلگت بلتستان کی قوم جاننا چاہتی ہے, انہوں نے کہا کہ کشمیر پر مودی کے عمل پر اقوام متحدہ سمیت اقوام عالم نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر پر مودی کے عمل پر رد عمل نہ دے کر ثابت کر دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام انسان نہیں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں اور پاکستانی حکمرانوں کے سامنے گلگت بلتستان کے عوام کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں جبری نظام نافذ ہے اسلئے حق حاکمیت کے مطالبے کو جاری رکھنا ممکن نہیں اس مطالبے کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں لیکن حق ملکیت کے لیے اپنی جان سے کھیل جائیں گے۔

About Author

Leave A Reply