جلال پور کا خستہ حال مندر

0

ملتان (رپورٹ: محمد افضل)دنیا بھر میں مختلف مذاہب کے لوگ اپنی مذہبی عبادات اپنی رسوم  و روایات کے مطابق کرتے  آرہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وہ سب  اپنی اپنی عبادت گاہوں کو صاٖف ستھرا رکھتے  ہیں، اسے سجاتے ہیں اور اس کو آباد رکھنے کیلئے اس میں نسل در نسل آتے جاتے رہتے ہیں مگر  قیام پاکستان  کے موقع پر آبادی کے ایک خطے سے دوسرے خطے کی طرف ہجرت کرنے کے بعد کئی مقامات ایسے بھی ہیں جو کسی خاص مذہبی عقیدے کے لوگوں کے اس خطے میں نا ہونے کی بنا پر ایک طویل عرصے سے غیر آباد  ہیں  اور اس علاقے میں  ان عقائد کے ماننےوالوں کے نا ہونے کی بناء پر ان عبادت گاہوں کا قیام مستقبل  میں خراب ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔

ایسی ہی ایک  عمارت ملتان کے علاقے جلال پور کے ریلوے اسٹیشن سے آٹھ کلومیٹر دور واقع ہے جو ہندووں کی مذہبی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی مگر برصغیر کی تقسیم کے بعد سے اپنے پیروکاروں کے نہ ہونے کی بناء پر اب خاصی مخدوش ہوچکی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ اس وقت ایک عظیم الشان عبادت گاہ تھی جس کے اطراف میں باغات اور پھلوں کے کثیر تعداد میں درخت ہوا کرتے تھے مگر  اب ان کا نام و نشان بھی باقی  نہیں۔

اس مذہبی عمارت کے اندر تاحال تصاویر اور مٹتے ہوئے نقوش  اس کی خوبصورتی اور جاہ جلال  کے گواہ ہیں۔ اطراف میں موجود کھلے میدان اس کی عظمت کی  قصیدہ خوانی کرتے نطر آتے ہیں۔

یہ عبادت گاہ بھی دنیا کے نقشے سے مٹ جانے کی منتظر تھی مگر یہاں کے ایک سماجی کارکن ملک طارق حسین شیراز نے اسے اس کے وابستگان کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو بچانے کیلئے اس کے مذہبی لواحقین کو  بھی ڈھونڈ نکالا۔ ہم نے جب اس ضمن میں ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا یہ ایک  بے حد مشکل کام تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں بچپن سے اس عمارت کو دیکھتا ہواآرہا ہوں  یہ ایک طویل عرصے سے غیر آباد تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اہل علاقہ سے مشورہ کرنے کا بعد ان لوگوں نے اپنے علاقے سے دور ایک گاوں میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنےوالوں کا کھوج لگایا اور ان کی عبادت گاہ ان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملک طارق شیراز نے بتایا کہ اس مذہب سے تعلق رکھنے والے وہ  لوگ ہمارے علاقے میں آئے اور ہم نے انہیں ان کی مذہبی عبادت گاہ دکھائی اور کہا کہ وہ اسے آباد کریں اور مکمل آزادی سے اپنی عبادت کریں۔

علاقے کے ایک اور رہائشی محمد صابر نے اس دن کے حوالے سے بتایا کہ ایک طویل عرسے سے بند مذہبی عمارت  ان کے مکینوں کے حوالے کی تو کئی جذباتی مناظر بھی نظر آئے۔ محمد صابر نے بتایا کہ مہمانوں کے ساتھ آئے بزرگ بھگت لعل جی نے اس اقدام پر اہل علاقہ کا شکریہ ادا کیا  کہ ان کی بدولت یہ مذہبی عمارت نہ صرف ان کو واپس مل گئی بلکہ ان کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس مندر میں اپنی مذہبی رسومات  ادا کریں۔

ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا دوسرے مذہب کے لوگوں کی عبادت گاہ کا نہ سرف خیال رکھنا بلکہ اس کو ان کے حوالے کر کے مذہبی رسومات کو ادا کرنے کی درخواست کرنا محبت ، امن ، رواداری اور اتحاد کی بہترین مثال ہے جس کی نظیر شائد ہی کہیں مل پائے۔

About Author

Leave A Reply