تہکال جیسے واقعات میں ملوث کالی بھیڑوں کو محکمہ پولیس سے برخاست کیا جائے، سردار محمد شبیر

0

ایبٹ آباد(ای این این ایس) انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے رکن سردار محمد شبیر نے صوبائی و ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن کی راہ میں قانونی رکاوٹیں ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے اس کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایبٹ آ باد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ 2002 میں مختلف اوقات میں ترامیم کی گئیں اور پولیس ایکٹ 2017 میں پولیس کے خلاف کمپلینٹ اینڈ اکاونٹیبلٹی کا موثر اور غیر جانبدار نظام نہ ہونے سے تہکال جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے رکن سردار شبیر کا کہنا تھا پولیس ایکٹ 2017 میں پبلک سیفٹی کمیشن کو معطل کر کے حکم امتناعی لیا گیا ہے، جس کی تاریخ پر تاریخ ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور صوبائی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نمبر 13 کے چیرمین ممبر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی سے صوبائی وضلعی پبلک سیفٹی کمیشن کے راستے سے قانونی پیچیدگیاں فوری طور پر ختم کر کے اس کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سردار محمد شبیر کا کہنا تھا پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ہر ضلع میں ڈی آر سی ممبران اور پولیس افسران پر مشتمل پولیس کی شکایات اور ازالہ کے لئے کمیٹی بنائی جائے،اور تھانوں میں پولیس ملازمین اور شہریوں کی آمدورفت کا ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے۔ انہوں نے تہکال پولیس کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے واقع کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے شعبہ میں ایسی سینکڑوں کالی بھیڑیں ہیں جو محکمہ کے لئے بھی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر قانون کے محافظوں کے مقدس پیشہ سے برخاست کرکے پولیس ایکٹ اور قانون کے مطابق سخت سزا دے کر دوسروں کے لئے نشان عبرت بنایا جائے۔

About Author

Leave A Reply