بینظیر رانی شہید کے چاہنے والے آج بھی انصاف کے منتظر

0

اسلام آباد(ای این این ایس/م ڈ) سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو قتل کو13 سال بیت گئے، تاہم ان کے قتل کا معمہ اب تک حل نہ ہو سکا نہ ہی اسے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں نظر آرہی ہیں۔
بھٹو کی بیٹی، بی بی رانی کی روح آج بھی انصاف کی منتظر ہے، ہائیکورٹ راولپنڈی کے ڈویژن بنچ میں یہ کیس نئے سال کے آغاز کے پہلے ماہ12 جنوری کو سماعت کے لئے مقرر کر کے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم قتل کیس کے8 ملزمان میں سے ایک ملزم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اشتہاری اور دبئی میں مقیم ہیں، ان کے اثاثے بھی قرق کئے جا چکے ہیں، دو مجرمان سابق سی پی او سعود عزیز، سابق ایس پی خرم شہزاد جنہیں مجموعی طور پر17,17 سال قید 10,10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں تھیں وہ سزائیں معطل اور یہ لوگ ضمانت پر رہا ہیں۔
5 بری کئے جانے والے ملزمان میں دو ملزمان اعتزاز شاہ اور شیر زمان اپنے گھر جاچکے،1 ملزم رفاقت رہائی کے ساتھ ہی لاپتہ ہوگیا اور اڑھائی سال سے لاپتہ ہے، دو ملزمان عبدالرشید اور حسنین گل تاحال اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں، طالبان، افغان حکومت اور امریکہ میں قطر مزاکرات میں طالبان نے جو قیدی مانگے ان میں مذکورہ بینظیر قتل کیس کے دو ملزمان بھی شامل ہیں۔
بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر2007 کو لیاقت باغ جلسہ میں خود کش دھماکہ میں شہید کیا گیا ان کے ساتھ 19 پارٹی کارکن بھی شہید ہوئے، اور 55 زخمی ہوئے تھے، اس کیس کی پنجاب پولیس، اقوام متحدہ، سکارٹ لینڈ یارڈ، ایف آئی اے نے چار تفتیشیں کیں۔
پنجاب پولیس نے12 افراد کو ملزم بنایا جن میں سے5 اعتزاز شاہ، شیر زمان، رفاقت، حسنین، عبدالرشید گرفتار ہوئے بقیہ بیت اللّہ محسود سمیت فورسز کے ساتھ مقابلوں میں مارا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے9 سال8 ماہ 3 دن التواء کے بعد 31اگست2017 ء کو اس کیس کا فیصلہ سنایا، اس دن سے اب تک 3 سال3ماہ27 روز سے یہ کیس ہائی کورٹ میں فیصلہ کا منتظر ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور بینظیر بھٹو کی ورثا فیملی میں سے کسی نے بھی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں اس اہم ترین مقدمہ کی پیروی نہیں کی۔
ایف آئی اے کے سینئر پراسیکیوٹر ذوالفقار علی بھی کیس کی بھرپور پیروی کے باعث شہید کر دیئے گئے، بینظیر بھٹو کے دوست امریکی صحافی مارک سیگل نے برطانیہ سے آن لائن کیس میں بیان ریکارڈ کرایا، نئے سال کی پہلی سہ ماہی میں ان اپیلوں کے فیصلے متوقع ہیں، آئندہ تاریخ کے لئے بھی ڈویژن بنچ نے تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ اس کے بعد اس اہم ترین قتل کیس کی اپیلیں سپریم کورٹ چلی جائیں گی۔
اس بیہمانہ قتل کی شکار ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی، بی بی رانی بینظیر بھٹو کی روح آج بھی انصاف کی منتظر ہے جبکہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ شہید ہونے والے کارکنوں کے ورثا اور زخمی آج بھی پارٹی کی طرف سے امداد اور داد رسی کے منتظر ہیں۔
لوگ ہر سال بی بی کی برسی میں اس امید سے جاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے اس سال ان کی قیادت قاتلوں کا پتہ بتا دے لیکن وہ مایوس لوٹتے ہیں۔ بی بی کے چاہنے والے آج بھی پی پی قیادت اور حکومت و عدلیہ سے انصاف کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔

About Author

Leave A Reply