بچوں سے جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ کرنا قانونی جرم ہے، اے ڈی سی سونیا کلیم

0

 نواب شاہ(ای این این) سندھ حکومت کی جانب سے جبری مشقت، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور متاثرین کی مدد کے لئے قائم کی گئی ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون شہید بینظیرآباد سونیا کلیم کی زیر صدارت ان کے دفتر میں منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سونیا کلیم نے کہا کہ بچوں سے جبری مشقت کرانا اور انسانی اسمگلنگ کرنا قانونی جرم ہے جس کی روک تھام کے لئے سندھ حکومت کی جانب سے قوانین قائم کئے گئے ہیں جو بھی شخص ان قوانین کی خلاف ورزی کریگا تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی ممبران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس تک اس حوالے سے اپنا پلان ترتیب دیکر ڈی سی آفیس میں جمع کرایا جائے تاکہ قائم کردہ کمیٹی کے کام کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور ضلع میں متاثرین کی مدد کے لئے اقدامات کئے جاسکیں انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ضلع سطح پر قائم کمیٹی کے ڈپٹی کمشنر چئیرمین ہونگے جبکہ ایس ایس پی، ایف آئی اے، سوشل ویلفئیر، لیبر و ہیومن ریسورسز، وومین ڈیولپمنٹ، ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ و پروٹیکشن آفیسر اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی 2 رجسٹرڈ تنظیموں کے نمائندے کمیٹی کے ممبران ہونگے کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد کیا جائے گا اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفئیر محمد صابر قریشی، ڈپٹی ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن مسلم فاروق، ڈی ایس پی پیارو خان جمالی، پاپولیشن آفیسر جاوید ملاح، ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان آصف البشر، ممبر ڈسٹرکٹ ویجیلنس کمیٹی اکرم خاصخیلی، تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز سمیت دیگر کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔

About Author

Leave A Reply