بحریہ ٹائون انتظامیہ کے خلاف مزاحمت میں تیزی، کراچی کے قدیم مکین ڈٹ گئے، وفد کا دورہ

0

کراچی(ای این این ایس) بحریہ ٹائون انتظامیہ کی جانب قدیم بستیوں اور مکینوں مسمار اور بے دخل کرنے کے خلاف صدائے بلند ہو رہی ہے۔ لوگوں نے مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہفتہ کے صحافیوں و اہل علم پر مشتمل وفد نے مذکورہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے بات چیت کی۔

معروف محقق گل حسن کلمتی نے بتایا کہ بحریہ ٹائون نے اس پورے علاقے کا نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے۔ قدیمی قبرستان ختم کردئیے گئے ہیں۔ مساجد اور تاریخی آثار مسمار کیئے گئے ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تکیہ ختم کردیا گیا ہے۔ فصل اور کاشت کاری ختم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد گذشتہ کئی برسوں سے مزاحمت کر رہے ہیں۔ نہ حکومت میں شنوائی ہو رہی نہ میڈیا میں آواز بلند ہوتی ہے لیکن صدیوں سے آباد لوگ مزاحمت جاری رکھیں گے۔

جسقم کے رہنما الاہی بخش بکک نے کہا کہ ہم مقامی افراد کے ساتھ کھڑے ہیں عیدالفطر کے بعد بحریہ ٹائون کے خلاف جدوجہد شروع کریں گے۔ یہاں پر ایسے لگتا ہے کہ دیوار کی ایک طرف اسرائیل ہے اور دوسری طرف دیہات فلسطین ہیں جن کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ ہم سندھ حکومت اور ملیر کی ضلعی انتظامیہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو اس ظلم کرنے میں بحریہ ٹائون کا ساتھ دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے نائب صدر اسد اقبال بٹ نے کہا کہ ایچ آر سی پی کا پورا وفد آیا ہے جس نے یہاں پوری صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ یہاں لوگوں کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہو رہی ریاست کے اندر ریاست قائم کردی گئی ہے جو دیہاتی آواز بلند کرتا ہے اس کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اصل دہشت گرد تو بحریہ ٹائون کی انتظامیہ ہے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری عاجز جمالی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم صحافیوں نے سوشل میڈیا پر دیہاتی خواتین پر مظالم کی وڈیوز دیکھی تو ہم نے ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بنائی گئی، جس نے بحریہ ٹائون کے ارد گرد متاثرہ دیہات کا دورہ کیا۔ جبر اور ظلم کی وہ داستان جس کو عام طور میڈیا میں جگہ نہیں ملتی کیونکہ اس ملک میں نہ صحافت آزاد ہے نہ میڈیا پر آزادی ہے۔ کیونکہ ملک کی تمام طاقت ور قوتیں عوام کے بجائے ایک بلڈر کے ساتھی ہیں۔

About Author

Leave A Reply