ایبٹ آباد: نوجوان کے قتل کیس میں مجرم کو 25 سال قید اور جرمانے کی سزا

0

بکوٹ (رپورٹ: نوید اکرم عباسی) تھانہ بکوٹ کے مشہور مقدمہ قتل نوجوان منصورالرحمان کیس کا ابیٹ آباد کی ماڈل کورٹ کا تیز ترین فیصلہ سناتے ہوئے ملزم علی حیدر شاہ کو ایک جرم میں 25 سال قید 2لاکھ جرمانہ، دوسری دفعہ پر 7 سال قید 50 ہزار جرمانہ جبکہ علی حیدر شاہ کے دو بیٹے ایک بیٹی اور بھتیجا عدم ثبوت پر بری کر دیے۔
مقدمہ ماڈل کورٹ  ایم سی ٹی سی   میں ایڈیشنل سیشن جج زینب رحمان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مدعی پارٹی کی طرف سے سردار حسیب عباسی ایڈووکیٹ جبکہ ملزمان کی طرف سے ملک امجد ایڈووکیٹ اور سحرش ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔
مقتول کے والد مدعی ارشاد احمد سردار کڑلال ساکنہ بکوٹ نے عدالت کے فیصلے کو جہاں ایک طرف انصاف پر مبنی قرار دیا تو دوسرے ملزمان کی بریت کو چیلنج کرنے کے لیے اپیل دائر کرنے کی بات کی۔
تھانہ بکوٹ کے گاوں بکوٹ شریف میں 25 فروری 2016 کو 29 نمبر مقدمہ درج ھوا جس میں نوجوان منصور الرحمٰن کو قتل کیا گیا جس پر ملزمان علی حیدر شاہ ولد عبدالحمید شاہ نوید شاہ وسیم شاہ پسران علی حیدر شاہ اور انکی ھمشیرہ کے علاوہ شبیر شاہ ولد عبدالرحیم شاہ ساکنہ لیراں سیداں بکوٹ کو زیر دفعہ 302/109/34پی پی سی کے   تحت نامزد کیا گیا کیس کا ٹرائل 28۔08۔2017 سے شروع ھوا جو نئی بننے والی ماڈل کورٹ کو 27 مئی 2019 کو ریفر کیا گیا جس پر دونوں طرف کے وکلاء کی بحث کے بعد 18 جون 2019 کو فیصلہ سنا دیا گیا جس پر مدعی ارشاد خان نے خوشی کا اظہار کیا کہ جلد فیصلہ ھوا اگر سب ملزمان کو سزاء ھوتی تو زیادہ بہتر تھا تاہم میں انکے خلاف ہائی کورٹ میں جاوں گا کہ ان کو بھی سزاء ھو۔
ابیٹ آباد کی تاریخ میں یہ پہلا کیس ھے جسکا فیصلہ اتنی جلد ھوا ھے۔

About Author

Leave A Reply