اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے خطیبوں پر پابندی کا قانون امن و امان کے اقدامات

0

 ملتان (تحریر سید ماذن یوسف)حکومت کی طرف سے ہر سال محرم کے موقع پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے علما اور خطیبوں کی تقاریر پر پابندی عائد کی جاتی ہے، اسی طرح بعض علما اور خطبا کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگائی جاتی ہے، جن میں سے بیشتر کو حکومت پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کی زبان بندی کتنی فائدہ مند ہے،۔

اگر ملتان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو دو دہائیوں قبل اس شہر اور جنوبی پنجاب بھر میں فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی کی آگ بھڑک اٹھی تھی، جن میں رشید اباد گراؤند دھماکہ، شجاع آباد ماتمی جلوس دھماکہ، سانحہ مسجد الخیر ممتاز آباد سمیت دیگر کئی سانحات رونما ہوئے، اس پر جب تحقیقات کی گئیں تو بیشتر وجوہات ایسے سامعین کی تھی جو ان اشتعال انگیز تقاریر سے متاثر ہوئے تھے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رپورٹس مرتب کیں اور اشتعال انگیز تقاریر پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی بلکہ ایسے علما،اور خطیبوں کی نقل و حرکت بھی محدود کی گئی ۔ ان خطیبوں کا تعلق مختلف فرقوں سے تھا گویا تمام ہی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء و زاکرئرین پر یکساں طور پر امن و امان کے قیام کیلیے پابندی عائد کی جاتی ہے جوکہ خوش آئند عمل ہے کہ کسی ایک مکتب فکر کو نہیں بلکہ سب کیلیے قانون کو برابری کی سطح پر لاگو کیا جاتا ہے۔

 انتظامیہ کے اس اقدام سے فرقہ واریت جیسے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور براشت میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔اسی سلسلے میں محرم سے قبل قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک میٹنگ کرتے ہیں، جن میں ایسے علما ، ذاکرین اور خطیبوں کی لسٹ مرتب کرکے تجاویز وزارت داخلہ کو بھجوائی جاتی ہیں، جس کے بعد وزارت داخلہ زبان بندی اور ضلع بندی کے احکامات جاری کرتی ہے۔

اگر عملی تناظر میں دیکھا جائے تو محرم کے دوران یہ پابندیاں نہ  صرف امن و امان قائم کرنے میں  مددگار ہوتی ہیں بلکہ اس سے پابندی سے بچ جانے والے علما، ذاکرین اور خطبا بھی دوران تقریر اشتعال اور نفرت انگیزی پھیلانے سے محتاط رہتے ہیں جبکہ یکجہتی، بھائی چارے اور امن و امان کو اپنی تقاریر کا موضوع بناتے ہیں۔ اس حوالے سے اہل علاقہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ ایسے افراد جو مختلف فرقوں یا مزاہب سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان نفرت یا غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں، ان سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنا چاہیے تاکہ معاشرے میں امن اور برداشت کا ماحول پروان چڑھے۔

About Author

Leave A Reply