آرزو راجا کو جمعرات تک عدالت میں پیش کیا جائے: سندھ ہائیکورٹ

0

کراچی(ای این این ایس) سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 13 سالہ آرزو راجا کو بازیاب کراکر دارلامان بھیجا جائے۔
سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس آرزو کو تلاش نہیں کر پائی۔
جبکہ لڑکی کے والدین کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرزو کو بازیاب کرواکر اس کا طبی معائنہ کرایا جائے۔ لڑکی کی عمر کا تعین ضروری ہے۔
جسٹس سمجھ سہتو نے ریمارکس دیے کہ ہمیں قانون پر چلنا ہے اور اس حوالے سے قانون واضح ہے۔ عدالت جذباتی نہیں ہوتی اور قانون نے مطابق کوئی کم عمری میں شادی نہیں کر سکتا۔ لڑکی کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جاۓ۔
عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر کو پانچ نومبر کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔
خیال رہے کہ آرزو فاطمہ کو مبینہ طور پر اغوا کرکے مذھب تبدیل کرانے کے بعد شادی کی گئی ہے۔ جبکہ ملزمان کا کہنا ہے کہ لڑکی نے پسند کی شادی کی ہے۔
خیال رہے کہ سندھ میں کم عمری کی شادی کے خلاف 2012 سے قانون موجود ہے، جس میں 18 سال کے بعد شادی ہو سکتی ہے۔

About Author

Leave A Reply