Three policemen martyred, two attackers killed in Gilgit, DC Diamar house attacked

0

GILGIT (ENNS) Atleast three police men were martyred and others injured in the attack of terrorists here on Saturday early hours in Gilgit, told police.

According to details terrorists attacked police party at Karga Nullah area of Gilgit in which three police personnel were martyred; while two others got injured.

The martyred were identified as Fazul- Rehman, Nawab and Wakeel; while Zia ur Rehman and others received injuries and injured were admitted in hospital for treatment.

In retaliation police killed two terrorists; while others managed to escape told police sources.

However dead body of one attacker was captured by police; while other was taken by attackers together, told police.

On the other hand the house of Deputy commissioner Diamar was attacked but police in retaliation forced attackers to escape after firing exchange.

گلگت: دہستگردوں کے حملے میں تین پولیس اہلکار شہید، 2 حملہ آور مارے گئے

گلگت (رپورٹ: اقبال عاصی)  گلگت کار گاہ نالے میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کے حملہ  3میں  پولیس اہلکار شہید  2اور   زخمی ہو گئے۔   شہداء میں سپاہی فضل الرحمن، سپاہی محمد وکیل اور سپاہی نواب عالم شامل ہیں جبکہ  ایف سی کے فیضان اور ضیاء الرحمٰن کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال گلگت منتقل کردیا گیا ۔پولیس کی جوابی کار وائی میں 2 دہشتگرد مارے گئے۔

مارے جانے والے حملہ آوروں میں دیامر میں اسکولوں کو تباہ کرنے والے دہشتگردوں کا ماسٹر مائنڈ کمانڈر خلیل اور اس کا ساتھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

پولیس زرائع کے مطابق  واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب  آزان سے پہلے  اس وقت پیش آیا جب خطرناک اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے گلگت سے چالیس کلو میٹر دور کارگاہ مجینے (جوت)  کے مقام پر قائم پولیس چوکی پر حملہ کر دیا اور خود کار ہتھیاروں سے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی ۔

گولیاں لگنے سے حوالدار فضل الرحمن ، سپاہی نواب خان اور سپاہی محمد وکیل شہید ہو گئے۔  شہداء کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور فورس کمانڈر میجر جنرل ثاقب محمود ملک سمیت اعلیٰ سول و ملیٹری حکام کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

About Author

Leave A Reply