پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ صحافیوں پر حملے کرنے والوں کو استثنیٰ حاصل ہے، لالا اسد پٹھان - Eye News Network

پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ صحافیوں پر حملے کرنے والوں کو استثنیٰ حاصل ہے، لالا اسد پٹھان

0

صحافیوں کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا لیکن اس کا کوئی آئین میں ذکر نہیں ہے اور ناہی صحافیوں کو آج تک کوئی آئینی تحفظ فراہم کیا گیا، قلم کے مزدور آج بھی بھوک اور افلاس کے باوجود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں، میڈیا کو ادارہ جاتی تحفظ ملے گا تو آزادیء صحافت مستحکم ہوگی۔ لالا اسد پٹھان
نوشہروفیروز(رپورٹ: وقارالحسن پٹھان) میڈیا ہاؤس کے افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمان خاص پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالہ اسد پٹھان کے پنڈال پہنچنے پر گل پاشی کرکے شاندار استقبال کیا گیا میڈیا ہاؤس کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے کہا کہ پاکستان کا آئین بننے کے بعد وکلا برادری کو آئینی تحفظ ملا، جس کے تحت پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل کا قیام عمل میں آیا اور یہ قانونی طور پر بااختیار ادارے ہیں۔ اسی قانون کے مطابق کوئی وکیل یا گروہ الگ بار کونسل تشکیل نہیں دے سکتا۔ لیکن افسوس کہ صحافیوں کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا لیکن اس کا کوئی آئین میں ذکر بھی نہیں ہے اور ناہی صحافیوں کو آج تک کوئی آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ پی ایف یو جے کے مرکزی رہنما لالا اسد پٹھان نے میڈیا ہاؤس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میڈیا کونسل قائم کرے اور صحافیوں کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرے تو آج ایک ہی شہر میں درجنوں پریس کلب نہ ہوتے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اس لئے تقسیم کیا گیا کیونکہ ہم غریب عوام کے مسائل اٹھاتے ہیں، زیادتی کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں اور انہیں عوامی عدالت کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں منظم اور بااختیار ہونے سے روکا گیا۔ لالا اسد پٹھان نے مزید کہا کہ قلم کے مزدور آج بھی بھوک اور افلاس کے باوجود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صحافیوں کو متحد ہونا ہوگا، میڈیا کو ادارہ جاتی تحفظ ملے گا تو آزادیٔ صحافت مستحکم ہوگی۔ ہم نے ہمیشہ سچ کی قیمت ادا کی ہے اور آئندہ بھی عوام کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے میڈیا مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ قلم کاروں کو مناسب اجرت دیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو آئینی تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے سندھ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک بااختیار کمیشن تو قائم کیا، مگر اس کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ قانون بے اثر ثابت ہو رہا ہے، حتیٰ کہ کمیشن کے بلاوے پر پولیس سمیت متعلقہ ادارے بھی نہیں پہنچتے۔

لالا اسد پٹھان

تقریب میں سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سلیم سہتو جنرل سیکریٹری جاوید جتوئی، کاشف پھلپوٹو، نوید کھوڑو، طالب بھنبرو، طوطا خان ملاح، سندھ  میڈیا لائیر لالا حسن پٹھان، رکن سندھ بار کونسل عبدالستار لہرانی، شوکت علی بوھیو ایڈوکیٹ، نوشہروفیروز یونین آف جرنلسٹس کے صدر زاہد قائمخانی، آمنہ چانگ اور میڈیا ہاؤس نوشہروفیروز کے سرپرست منور حسین منور نے بھی خطاب کیا تقریب میں مورو, پڈعیدن, مٹھیانی, کنڈیارو, بھریا, بھریاروڈ, ہالانی, کوٹری کبیر, محراب پور سمیت دیگر شہروں سے سینکڑوں صحافیوں وکلاء اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی منتظمین کیجانب سے مہمانوں کو اجرک کے تحائف جبکہ مختلف پریس کلبز کے صدور کو شیلڈز پیش کی گئیں۔

مقررین نے صحافیوں کو درپیش مسائل، پروفیشنل جرنلزم کے چیلنجز اور نوجوان صحافیوں کی تربیت و رہنمائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

About Author

Leave A Reply