کراچی (ای این این) سندھ ہائیکورٹ کے لائبریریز کو متحرک رکھنے کے لیے کیے گئے تاریخ ساز فیصلے کو محکمہ بلدیات اور محکمہ خزانہ سندھ کے افسران (صوبائی سيکريٹریز) نے چونا لگا دیا، عدالت کو دی گئی تحریری یقین دہانی کو بھی حوا میں اڑا دیا۔
خیال رہے کہ اعلیٰ عدالت نے 27-5-2024 کو اپنے فیصلے میں حکم دیا تھا کہ محکمہ بلدیات سندھ کے زیر انتظام لائبریریز کو موثر بنانے کے لیے افسران تعینات کیے جائیں جس پر محکمہ بلدیات اور محکمہ خزانہ سندھ کے اعلیٰ افسران نے ایسی تحریری یقین دہانی عدالت کو کرائی اور کمپلائینس میں ایک ڈائریکٹر لائبریریز سندھ ایٹ کراچی اور ڈویژن سطح پرDD ڊيڊیز کو ذمیواری دی گئی، جس میں حیدرآباد ، میرپور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد شامل تھے، جہاں پر گریڈ 18 کے افسران ڈپٹی ڈائریکٹرز کو چارج دی گئی۔
ایسا لیٹر عدالت میں بھی پیش کیا گیا لیکن بعد ازاں ان افسران کے گریڈ میں ردوبدل کرکے لائبریریز کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور بجٹ تک نہیں رکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنہور نے جو زبردست کام کیا اس کو اعلیٰ افسران نے ٹھوکر ماردی اور بجٹ تک مختص نہ ہونے کی وجہ سے افسران کی زیادہ تر دلچسپی ان عہدوں پر ہے جہاں سہولیات اور انسینٹوز زیادہ ہیں۔
سول سوسائٹی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر جسٹس صلاح الدین پنہور کے احکامات پر من و عن عمل ہوتا تو کئی نوجوان ان لائیبریریز سے مستفید ہو رہے ہوتے۔