شاکر شجاع آبادی، امن کا استعارہ - Eye News Network

شاکر شجاع  آبادی، امن کا استعارہ

0

ملتان (رپورٹ: عبدالمصور) شاکر امن میلہ گزشتہ کئی سالوں سے نئے شاعروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا آرہا ہے، جہاں سے وہ اپنے کلام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ شاکر سرائیکی کے شیکسپیئر سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے معاشرتی امن کے لیے ظالم حاکم کوواضح پیغام دیا ہے کہ نسل انسانیت کو ظلم، غربت، مفلسی میں رکھنے سے جو بد امنی پیدا ہوگی اس سےکوئی نہیں بچےگا۔

شاکر امن میلہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں ہر قسم کی سیاسی پارٹی اور مذہبی رہنما بلا کسی تفریق و تعاصب کے شرکت کرتے ہیں۔اس میلے میں آنے والے رہنماﺅں کا یہی کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگراموں میں شرکت سے امن کا پیغام معاشرے میں پروان چڑھتا ہے اور سیاسی  اورمذہبی عدم برداشت کی فضاء ختم ہوتی ہے۔

مشاعرے میں شامل نوجوان شاعر منیب کا کہنا تھا کہ شاعری کے ذریعے انسان کو اظہار کے نئے سانچے میسر آتے ہیں جن کے ذریعے انفرادی تجربات مشترکہ اثاثہ بن جاتے ہیں اور بعض اوقات کسی مسئلہ کے بارے میں رائے کو معطل کرکے نئے سرے سے غور و فکر کے دروازے کھلتی ہے ۔اس سے بڑھ کر شاعری کی بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جس کے ذریعےمعاشرہ مثبت تبدیلی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔

 ایک اور نوجوان شاعر پرویز مسیح کا کہنا تھا کہ یہ امن میلہ لسانی ، قومی ، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کو ختم کرکے شرکا کو ایک پلیٹ فارم تلے اکٹھا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس سے ایک خوشگوار ماحول پروان چڑھتا ہے۔ شرکا  مزہبی  اور فرقہ پرستی سے بالاتر ہوکے اپنا کام پیش کرتے ہیں اور داد وصول کرتے ہیں۔

 اس میلے کے اندر سرائیکی جھومر، سرائیکی میوزک ، مختلف زبانوں کی شاعری سمیت دیگر تفریحی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں  جو معاشرہ کی مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ علاقہ کے معززین چندہ اکٹھا کرکے اس پروگرام کا سالانہ انعقاد کرتے ہیں ،جس میں علاقہ کے لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ عوامی امنگوں سے بھر پور اس میلہ میں لوگوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے جو صرف اور صرف یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ شخص اپنے تیں امن کی خواہ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہے اور کررہا ہے ۔

About Author

Leave A Reply