ایبٹ آباد(ای این این)خواتین اساتذہ نے مہینے میں دو رخصت اتفاقیہ کی چھٹی نہ دینے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کلاسز کے بائیکاٹکی دھمکی دی ہے۔   ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ کے فیصلے پر خواتین اساتذہ کو ماہ رمضان میں احتجاج کرتے ہو ئے سڑکوں پر آنے پے مجبور کردیا گیا۔

ایبٹ آباد پریس کلب کے باہر شہر کے گرلز اسکولوں کی اساتذہ نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق مہینے میں دو رخصت اتفاقیہ کرنے کی اجازت ہے لیکن ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ ریحانہ یاسمین نے پسند ناپسند کی بنیاد پر غیر قانونی پابندی لگا رکھی ہے جسکی وجہ سے نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔

، انہوں نےمیڈیا کو بتایا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ نے اپنے رویہ پر نظرثانی نہ کی تو سڑک پر احتجاج کریں گے۔

انھوںنے کہا کہ سی لیو ہمارا قانونی حق ہے اور ضلعی آفیسر اس سے ہمیں محروم نہیں کر سکتی،ضلعی آفیسر نے اسکول کی پرنسپل کو سختی سے ہدایات دے کر سی لیو کو بند کیا ہے۔  انہوں نے کہا ہے کہ تعلیمی رینکنگ میں ضلع ایبٹ آباد پیچھے ہے اسکو بنیاد بنا کر صرف ضلع ایبٹ آباد میں پابندی لگانا غیر قانونی ہے۔

، اس موقع پر خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے اپنے حق کے لئے نعرہ بازی بھی کی اور اعلان کیا اگر سلسلہ برقرار رہا تو سکول بند کرکے کلاسز کا بائیکاٹ کر کے سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

About Author

Leave A Reply