ہمارے معاشرے میں تعریف صرف مردوں کی ہوتی ہے،سسر نے ساتھ اور والد آئیڈیل ہیں، رٹائرہونے والی خاتون جج اشرف جہاں کی باتیں

0

کراچی(ای این این)سندھ ہائیکورٹ کی جسٹس اشرف جہاں جمالی نے فل کورٹ
ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ
رٹائرمینٹ شروعات ہے ایک نئے سفر کی، لیکن مجھے میری پہلی پوسٹنگ یاد ہے جو سندھ کے شہر کوٹری میں ہوئی تھی۔ بیتے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام دن بہت مشکل تھے، کیونکہ  دن کوکام اور رات کو دو ماہ کی بیٹی سنبھالتی تھی۔ایک مرتبہ یے سوچ لیا تھا کہ اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دوں، لیکن دوسری جانب میرے سسر بہت خوش تھے کہ ان کی بہوبھی ایک جج ہیں۔

جسٹس اشرف جہاں جمالی نے مزید کہا کہ سسر کے پیار اور اعتماد کی وجہ سے استعیفیٰ دینے کا فیصلہ ترک کر دیا تھا۔میری زندگی کا آئڈیل میرے والد ہیں جو کے راجستان میں جج تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سب نے میری تعریف کی، جس کی  مجھے خوشی ہوئی، کیوں کہ ہمارے معاشرے میں تعریف صرف مردوں کی کی جاتی ہے۔ ہماری خواتیں میں بہت توانائی اور ٹیلنٹ ہے، جب ہم محنت کرتے ہیں تو اللہ سب کو کامیابی دیتا ہے۔

مجھے اللہ نے ایک ایسی خدمات سے نوازہ جس پر میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو یہی شکایت رہتی ہے کہ ان کا استحصال ہوتا ہے۔خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔ خواتین قانون کے شعبے میں آگے آئیں۔ مجھے وکلاء نے بہت عزت بخشی ہے۔ اپنی مدت ملازمت میں ہر فیصلہ خدا کو حاضر ناظر جان کر کیا، مجھے امید ہے کہ سندھ ہائیکورٹ آئندہ وقت میں مزید موثر طریقے سے انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرےگی۔

About Author

Leave A Reply