گلگت: غذر میں طالبعلم کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزمان گرفتار نہ کرنے پر سول سوسائٹی کا احتجاج

0

گلگت(ای این این) ضلع غذر کے علاقے اشکومن تشنلوٹ میں 14 سالہ ساتویں کلاس  کے طالب علم کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعے اور پولیس  کی جانبدارانہ تحقیقات کے خلاف سول سوسائٹی نےگلگت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔  اس موقع پرمقررین کا کہنا تھا کہ پولیس نے جن افراد کو گرفتار کیا، ان کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اصل مجرم کوئی اور ہیں۔ پولیس تحقیقات سے لواحقین اور اہل علاقہ مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے کہ اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس پر انسداد دہشت گردی ایکٹ لاگو کرتے ہوئے جوائنٹ انسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے اور مجرموں کو پکڑ کر عبرتناک سزا دی جائے۔مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ معصوم طالب علم کے لواحقین نے جن افراد کے نام ایف آئی آر میں درج کرائے ہیں ان کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

 کریم خان سیاسی رہنما اکبر خان اور محمد نبی نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، گورنر گلگت بلتستان،  فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات  انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان سے پر زور مطالبہ کیا کہ وە اس واقعے کا نوٹس لیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کریں۔ اس دوران مظاہرین پولیس مخالف اور معصوم بچے کے حق میں نعرہ بازی بھی کر رہے تھے۔بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

واضح رہے کہ دیدار حسین کو چار فروری کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا جس کی لاش دو روز بعد دریائے اشکومن کے کنارے پڑی ملی تھی۔قتل کیس میں ضلع غذر پولیس نے 8 افراد کو گرفتار کر کے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

About Author

Leave A Reply