ڈی ایچ اے کا جائزہ لیں تو سارا غیر قانونی نکلے گا، حکومت ہے ہی نہیں، آپ لوگ کار کرنا ہی نہیں چاہتے: چیف جسٹس

0

کراچی (ای این این ایس) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ 9،9 منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں، ان سب کو گرائیں، اس قدر برا حال ہوگیا ہے آپ لوگ آنکھیں بند کرکے چلتے ہیں؟ آپ لوگوں پر اعتبار کرکے سرکاری زمینیں سپرد کی گئی تھیں، آپ لوگوں نے اس ٹرسٹ کے ساتھ کیا کیا؟
جسٹس گلزار احمد کا کراچی رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کی کہانی بھی ہمیں معلوم ہے، جائزہ لیں تو سارا غیر قانونی نکلے گا، ساری لیزیں فارغ ہوجائیں گی، میں بھی فارغ ہوجاؤں گا، فارغ ہوجائوں تو کوئی بات نہیں مگر ہمیں قانون پر چلنا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر روڈ والوں کو کہیں اور لے جائیں حکومت اپنی زمین خالی کرائے، اس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ مجھے وقت دے دیں، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوئی حل نکالیں گے۔
معزز چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں ریمارکس دیے کہ نہ شہری حکومت کام کررہی ہے نہ وفاقی اور صوبائی حکومت کام کررہی ہے، کوئی حکومت کام نہیں کررہی کیا کریں کسے بلائیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ عزم نہیں، آپ کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔
عدالت نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ تجاوزات کا مکمل خاتمہ، کچی آبادیوں کی ری سیٹلمنٹ اور متاثرین کی آبادکاری پرسفارشات دیں، میڈیا کے ذریعے بھی متعلقہ ماہرین سے سفارشات لیں۔
عدالت نے نہر خیام پر بھی سبزہ پارک بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ نہر خیام پر کمرشل تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔
بعد ازاں عدالت نے تمام مقدمات کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کردی جب کہ کراچی بے امن کیس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردیا گیا۔

About Author

Leave A Reply