ڈائو یونیورسٹی کراچی میں سندھ کے باقی اضلاع کے طلبہ کو داخلہ نہ  دینے پر سماعت،ہائیکورٹ کا اظہار حیرت و برہمی، پالیسی طلب:حکومت اپنا کردار ادا کرے:ستار زنگیجو

0

کراچی (رپورٹ: لالا حسن) سندھ ہائیکورٹ میں ڈاو میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں  سندھ کے باقی اضلاع  کے طالبعلموں کو داخلہ نہ دینے کے معاملہ پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  یونیورسٹی حکام سے 28 جنوری کو داخلہ پالیسی طلب کرلی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر   کی سربراہی میں قائم  عدالت  نے  یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی پر اظہار حیرت و برہمی کرتے ہوئے رمارکس  دیے کہ صرف کراچی کیوں سندھ کے باقی اضلاع کے بچے پھر کہاں جائیں گے؟ کیا سجاول ضلع  کا بچہ داخلہ لینے پنجاب، بلوچستان  یا پھر کے پی کے چلا جائے؟

اس موقع پر ڈائو یونیورسٹی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی  میں صرف کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والوں کو داخلہ دے سکتے ہیں،   شعبہ ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، فارمیسی ڈی میں کراچی کا طالب علم ہی داخلہ کا اہل ہیں،  کیونکہ  یہ یونیورسٹی کی سینڈکیٹ کا فیصلہ ہے۔

عدالت  نے  یونیورسٹی حکام پر برہمی کا اظہار کہا کہ کچھ عرصہ پہلے بین الصوبائی بچوں کی درخواست پر آپ نے خود کہا تھا کہ پہلے سندھ کے بچوں کو داخلہ دینگے اور اب کہتے ہیں کہ نہیں صرف کراچی والوں کو داخلہ دینگے۔

 وکیل ڈائو  یونیورسٹی نے  جواب دیا کہ ہر ڈویژن کی الگ الگ یونیورسٹی ہوتی ہے، جس عدالت نے استفسار کیا کہ جب طالب علم یہاں داخلہ لینا چاہتا ہے تو میرٹ پر انہیں داخلہ کیوں نہیں مل سکتا ؟ وکیل ڈاو یونیورسٹی نے کہا کہ مجھے زیادہ علم نہیں وہ  پوچھ کر عدالت کو آگاہ کرینگے۔

خیال رہے کہ درخواست گذار  طالبہ شارقا جان مگسی  نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ ڈاو یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی یونیورسٹی ایکٹ 2004 خلاف ورزی ہے، کیونکہ ہمیں داخلہ ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت تک نہیں۔کراچی  سندھ  کا دارالحکومت اور کا حصہ ہے، اس لیے  میرٹ پر داخلہ ہمارا حق ہے۔

دوسری جانب  سماجی رہنما ستار زنگیجو نے ای این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈوئو کی پالیسی امتیازی سلوک اور ایتھنک سوچ کی گمازی کرتی ہے، کراچی سندھ کا دارالحکومت  ہے اور اس پر باقی اضلاع کے طلبہ کا بھی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور گورنر سندھ کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

سینئر صحافی اعظم ظہرانی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کچھ عرصہ قبل وسائل نہ ہونے کی بات پر ڈائو یونیورسٹی کی مالی معاونت کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں وہ فنڈز بھی دیتی رہی، اس لیے ایسی صورتحال میں سندھ کے باقی اضلاع سے بھی طلبہ کو داخلہ ملنا چاہیے۔

About Author

Leave A Reply