پشاور ہائیکورٹ ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے پرفیصلے کررہی ہے، سپریم کورٹ

0

 مذاق بنایا ہوا ہے، ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں، جسٹس عظمت سعید

 اسلامآباد(ای این این ایس)سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے ہیں کہ پشاورہائی کورٹ نے مذاق بنایا ہے، ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں۔سپریم کورٹ میںفرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نےملزمان شہزاد کیانی، تیمور فریدون، خالد عمر اور راجہ مصطفی کو نوٹسز جاریکردیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے ذریعے یہ مقدمات وفاقیحکومت کو بھیجے گئے لیکن پشاور ہائیکورٹ نے ریکارڈ دیکھے بغیر ہی مقدمہ فوجی عدالتکی بجائے دہشت گردی عدالت میں چلانے کا حکم دیا۔جسٹسعظمت سعید نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلہ دیا، سمجھ نہیںآتا ہائیکورٹ کس کے ساتھ ہے، ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے پر فیصلے ہو رہے ہیں، فیصلےریاست کے لئے ہو رہے ہیں یا کسی اور کے لئے؟، آؤٹ آف وے جاکر ہائیکورٹ فیصلہ کرےتو کیا کر سکتے ہیں، ہائیکورٹ نے مذاق بنایا ہوا ہے۔دوسری جانب ملزمان کے وکیل نےاپنے موقف میں کہا کہ ملزمان کے مقدمات فوجی عدالت کو طریقہ کار کے مطابق نہیںبھیجے گئے، لہذا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔

سپریم کورٹ نے موقف سننے کے بعدشہزاد کیانی، تیمور فریدون، خالد عمر اور راجہ مصطفی کو نوٹس جاری کرکے کیس کیسماعت 15 دن کے لئے ملتوی کردی۔ ملزمان پر 2016 میں ایکسیئن کے فرقہ ورانہ قتل کاالزام ہے اور پشاور ہائیکورٹ نے یہ کیس دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا حکم دیاتھا تاہم حکومت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

About Author

Leave A Reply