پشاور:پینٹنگ کے ذریعے عالمی یوم خواتین منانے کا ہنر

0

پشاور(رپورٹ: شاہین آفریدی)دنیا بھر میں 8 مارچ کو عالمی دن برائے خواتین کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی اس دن کو مختلف انداز سےمختلف تنظیموں کی جانب سے منایا گیا لیکن پشاور سے تعلق رکھنے والی مومنہ کنول اس دن کو اپنے پینٹگ کے ذریعے معاشرے میں خواتین کی عکاسی کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خواتین بہت کچھ کرنا چاہتی ہےلیکن وہ معاشرے میں لوگوں کے رویے اور کئی مشکلات کی وجہ سے اپنے گھر میں قید ہوجاتی ہیں۔

 مومنہ کنول”اس تصویر میں یہ خاتون اپنے کھڑکی کے اندر سے باہر معاشرے کو دیکھ رہی ہے۔ وہ بھی چاہتی ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ مناظر دیکھے لیکن گھریلوں پابندیوں اور معاشرے کے رویے نے اس کو گھر کے اندر قید کر رکھا ہے۔

بچپن سے پینٹنگ کا شوق رکھنے والی مومنہ پشاور میں نجی یونیورسٹی سے بی بی اے کررہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بہت ساری لڑکیاں گھریلو پابندیوں کی وجہ سے اپنا شوق پورا نہیں کر پاتیں۔ اگر خواتین کو مواقع دیے جائیں  تو وہ ہر میدان میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔

مومنہ کنول”میرے خیال میں والدین کو اپنے بچوں کو تعلیم کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی سپورٹ کرنا چاہیے، تاکہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق اپنا کیرئر منتخب کر سکے جس میں وہ بہت آگے تک جا سکتی ہیں۔

حقوق نسواں پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد کے بعد جبری یا کم عمری میں شادی کی شرح پورے ملک میں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ تر خواتین اپنی تعلیم پورا نہیں کر پاتی۔

  جمائمہ”خواتین جہاں کہی بھی ہو، ان کی حقوق پہ بات کرنا بہت ضروری ہیں. ہمارے قبائیلی اضلاع میں خواتین کو اپنے حقوق کا بلکل نہیں پتہ جس پر کام کرنا بے حد ضروری ہے. فاٹا اصلاحات کے بعد یہ کام بہت آسان ہو چکا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں نہ صرف 8 مارچ کو نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ خواتین کی حقوق بھی غصب کئے جاتے ہیں جہاں ان کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی بھی کی جاتی ہے لیکن جمائمہ اور مومنہ ان کے خلاف آواز ہمیشہ اٹھائے گی۔

مومنہ کہتی ہیں وہ اپنی پینٹنگ کو ناصرف اپنا پیشہ بنانا چاہتی ہے بلکہ ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی جس کے ذریعے خواتین کے مسائل سے بھی دنیا کو آگاہ کرنا چاہتی ہیں۔

About Author

Leave A Reply