وفاقی وزیراطلاعات کی ضرورت مند شدید بیمار صحافیوں کے لیے مشکل مراحل پر مبنی مالی معاونت کی پیش کش

0

کراچی(ای این این ایس) وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کی کراچی پریس کلب کے حالیہ دورے کے دوران صدر امتیاز خان فاران اور سیکریٹری ارمان صابر سے ضرورت مند شدید بیمار صحافیوں کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کے بعد وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اس سلسلے میں ضرورتمند صحافیوں کی مالی امداد کے لیے ایس او پیز تیار کرلی ہیں۔وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ضرورتمند صحافی اپنی درخواست متعلقہ پریس کلبز کے ذریعہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں جمع کراسکیں گے۔ پی آئی ڈی درخواست کی جانچ پڑتال کرے گا اور اپنی سفارشات کے ساتھ اسے وزارت اطلاعات کو ارسال کرے گا۔ کسی صحافی کے انتقال یا شدید بیماری کی صورت میں مالی امداد ان کے لواحقین کو فراہم کی جائے گی۔ مالی امداد کی درخواست کے ساتھ قومی شناختی کارڈ کی کاپی، بینک اکانٹ نمبر، بیماری کی صورت میں اسپتال کا میڈیکل سرٹیفکیٹ، موت کی صورت میں نادرا سے تصدیق شدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔ ضرورتمند صحافیوں کی مالی امداد ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ سے مشروط ہوگی۔ درخواست اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ سیکرٹری انفارمیشن کی سربراہی میں قائم کمیٹی لے گی، جس کے ارکان میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر، ڈائریکٹر جنرل آئی پی اور چیف فنانس اینڈ اکانٹ افسر شامل ہوں گے۔ کمیٹی درخواست پر فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کرے گی اور صحافیوں کی مالی امداد کی حتمی منظوری کمیٹی کی سفارش پر فنانس ڈویژن دے گا ۔مالی امداد کے استعمال کے بعد اس کا آڈٹ اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ہوگا ۔صحافیوں کی مالی امداد اس مقصد کے لیے مختص شدہ بجٹ سے کی جائے گی ۔وزارت اطلاعات کے نوٹی فکیشن کے مطابق دوران ڈیوٹی ہنگامہ آرائی یا دہشت گردی کے واقعہ میں نشانہ بننے والے ،دوران ڈیوٹی ایکسیڈنٹ ،ہنگامہ آرائی اور دہشت گرد کارروائی کے نتیجے میں اعضاسے محرومی اور ایکسیڈنٹ میں معذوری کی صورت میں صحافیوں کو مالی امداد فراہم کی جاسکے گی ۔کینسر ،جگر اور گردوں کے خراب ہونے اور ہارٹ اٹیک کے مریض صحافیوں کو بھی مالی امداد کی جاسکے گی ۔مالی امداد کی رقم کا تعین کمیٹی کرے گی اور یہ 5 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگی۔صحافیوں کی مالی امداد فنانس ڈویژن کی منظوری سے انسانی بنیادوں پر ہوگی۔

About Author

Leave A Reply