وانا میں دن دہاڑے بیچ بازار سے ڈاکٹر اغوا، شہر میں خوف، اجمل وزیر کانوٹس

0

وانا(ای این این ایس)جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں کالے شیشے والی گاڑی میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے ڈاکٹر نورحنان کو ٹی، بی ہسپتال وانا سے اغوا کرلیا ہے۔
وانا کی ضلعی انتظامیہ کے ذرائع اور ڈاکٹر نورحنان کے بھائی ڈاکٹر مولانا تاج محمد خان نے اغوا کی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نورحنان ٹی، بی ہسپتال وانا میں تعینات تھے اور ڈیوٹی سے واپس آرہے تھے کہ مسلح افراد نے ان کو گھیر لیا اور اسلحہ کے زور پر اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقات شروع کرکے ڈاکٹر نورحنان کی تلاش شروع کردی ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر نورحنان کو وانا جیسے مصروف شہر سے دن دیہاڑے اغواء کرنے کے واقعہ کے بعد علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ڈاکٹر نورحنان سابق ایم این اے مولانا نور محمد کے فرزند ہیں، جوکہ اگست 2010 میں جامعہ مسجد وانا میں ایک خودکش حملے میں شہید ہو گئے تھے، اور اس واقعہ میں 34 عام شہری بھی جانبحق ہوئے تھے۔

Ajmal Khan Wazir

اجمل وزیر کا نوٹس

دریں اثناء وزیر اعلیٰ کے پی کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و ترجمان پختونخوا حکومت اجمل خان وزیر نے جنوبی وزیرستان میں ڈاکٹر کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان سے رابطہ کیا۔
ڈاکٹر کو فوری طور بازیاب کرنے کے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
ڈی سی ساوتھ نے اجمل خان وزیر کو مغوی ڈاکٹر کی بازیابی کیلئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
اجمل خان وزیر نے ڈی پی او ساوتھ عتیق اللہ وزیر سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ڈی پی او کے مطابق ڈاکٹر نورحنان کو ٹی بی اسپتال وانا سے نقاب پوش افراد نے بندوق کی نوک پر اغوا کیا ہے۔
تمام داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ تمام پولیس و لیویز اور آرمی کے چیک پوسٹوں پر چیکنگ جاری ہے۔
دوسری جانب ہی کے 114 سے منتخب نمائندہ نصیراللہ خان وزیر نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے واقعہ کی مذمت کی اور انہوں نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

About Author

Leave A Reply