وانا: جرگہ پر حملہ، ملک کشمیر خان جانبحق

0

 وانا(رپورٹ:مجیب وزیر/ای این این) وانا کے اسسٹنٹ کمشنر بشیر خان کی قیادت میں جانے والے جرگہ پر حملہ، سلیمان خیل قبیلے کے ملک کشمیر خان جان بحق۔اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر قبائلی عمائدین بال بال بچ گئے، جنوبی وزیرستان وانا میں اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیرخان کی قیادت میں جانے والے سلیمان خیل قبائل کے قومی عمائدین پر دوتانی قبائل کے مسلح افراد کی فائرنگ گاڑی میں سوار ملک کشمیرخان سلیمان خیل کو سر میں گولی لگی،جس کو ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا لے جایا گیا،لیکن وہ زندگی کی بازی ہارگئے۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں دوتانی اور زلی خیل قبائل کے بیچ کرکنڑہ کی زمین کی ملکیت پر تنازعہ آٹھ کھڑا ہوا تھا،جس کے تصفیے کیلئے کمیشن تشکیل دی گئی، کمیشن نے دونوں قبائل کے بیچ کرکنڑہ کی حد بندی کرکے دونوں قبائل کو راضی کیا،اس کمیشن کی معاونت احمدزیی وزیر اور سلیمان خیل کے قومی عمائدین کررہےتھے،دو ہفتے قبل سرکار نے احمدزئی وزیر کے قومی عمائدین کے ہمراہ زلی کو حدبندی کے متعلق باخبر رکھنے کیلئے سائٹ کا تفصیلی دورہ کرایا،جبکہ دوتانی قبائل نے حدبندی کے متعلق سرکار کو درخواست کی ،کہ زلی خیل کو موقع کی تفصیلی دورہ کرایا گیا، اس لئے دوتانی قبائل کا بھی حق بنتا ہے،تو سرکار نے تھانہ توئے خلہ کے ایس ایچ او سے علاقہ کو کلئیرنس کی زمہ داری سونپ کر اتوار والے دن حد بندی کے حدود کی سیر طے ہوئی، دوتانی نے سرکار سے یہ بھی کہا کہ سلیمان خیل کے علاؤہ دیگر احمدزیی وزیر کو علاقہ کی وزٹ کے دوران مدعو نہ کیا جائے، اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیر خان نے سلیمان خیل قبیلے کے چند مشران کو بھی ساتھ لے لیا، جس میں ملک کشمیرخان سلیمان خیل بھی شامل تھے، جب موقع پر پہنچے، تو دوتانی قبائل نے سلیمان خیل کے عمائدین کی موجودگی پر اعتراض کردیا، جس پر اے سی نے ان کو واپس جانے کا کہا،عینی شاہدین کا کہنا ہے،کہ جب سلیمان خیل قبیلے کے قومی عمائدین گاڑی میں سوار ہوگئے اور گاڑی چل پڑی تو دوتانی قبائل کے بیسیوں مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی،جس کے نتیجہ میں ملک کشمیر خان سلیمان کو سر میں گولی لگی،اور دیگر چار افراد بال بال بچ گئے،جبکہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، اس واقعہ کے بعد اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیر خان ملکیت کی حد بندی کا دورہ کرایے بے غیر واپس وانا پہنچے ہے، اس واقعہ کے بعد حکومتی حلقوں اور انتظامیہ میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔جبکہ سلیمان خیل قبائل نے اس واقعہ کو پشتون روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے انصاف کرانے کی استدعا کی ہے،ملک کشمیر خان کا نماز جنازہ شام 5بجے ادا کردی گئی، جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کیں۔

About Author

Leave A Reply