وانا:عورتوں کا روایتی لباس گنڑخط ختم ہونے لگا، تاریخی لباس کی روایت دم توڑنے لگی

0

وانا(ای این این ایس) وزیرستان میں گنڑ خط(لباس) جو کہ خواتین زیب تن کرتی ہیں، وزیر قبائل میں صدیوں سے چلا آرہا ہے، لیکن رفتہ رفتہ اس لباس کو زیب تن کرنے میں کمی آرہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پچھلے 20 سالوں سے جس طرح اس لباس کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے، اس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں وزیر قبائل کی خواتین کا یہ لباس ختم ہوجائیگا۔
آج کل وزیر قبائل کی خواتین جو بندوبست علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، وہ تو بالکل اس لباس کو خیرآباد کہہ چکی ہیں، لیکن وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں اس لباس کے زیب تن کرنے میں بھی کمی آئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر خاندانوں کی 100 خواتین میں سے 30 خواتین اس لباس کو استعمال میں لا رہی ہیں۔ اس لباس کو تیار کرنے کیلئے 18 سے لیکر 24 میٹر تک کا کپڑا درکار ہوتا ہے اور یہ لباس 20 سے 40 سال تک استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس لباس میں ہاتھ سے کشیدہ کردہ بہت ساری چیزیں استعمال کی جاتی ہیں، جن میں گریوون، بچکاک، لستینڑ خولے، تاپیر، پیسے وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اس میں جست سے بنی ہوئی پوشاکی اشیاء جیسے گل ماخئی، ماوٹے اور گنگرو کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔اس لباس کو تیار کرنے پر40 ہزار سے لیکر 1 لاکھ 50 ہزار تک خرچہ پڑتا ہے اور اس کو تیار کرنے میں ایک مہینے کا وقت درکار پوتا ہے۔ جبکہ کچھ ماہر خواتین اس کو 15 دن میں بھی تیار کرسکتی ہے۔

About Author

Leave A Reply