نواز شریف  کی واپسی اور سندھ: پنجاب کا کڑا امتحان! عاصمہ ذوالفقار

1

نواز شریف کے پارلیمنٹ کی بالادستی اور مزاحمتی عمل کی وجہ سے سندھ کے اہل فکر کے پاس قبولیت موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پارٹی کی قیادت اس کو ٹھوس شکل نہ دے سکی۔احتساب عدالت سے سزا کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی وطن واپسی سیاسی حلقوں میں خواہ میڈیا میں مقبول موضوع بنا ہوا ہے ۔نواز شریف کے بیانیے کے بارے میں سندھ کیا سوچتا ہے؟ اس کا اندازہ سندھی اخبارات میں شایع ہونے والے اداریوں، کالموں، تجزیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

’’روزنامہ عبرت‘‘ اداریے میں لکھتا ہے کہ میاں نواز شریف صاحبزادی کے ساتھ وطن لوٹ رہے ہیں۔ ایک طرف نیب کے اہلکار فکرمند ہیں کہ وہ انہیں ہر صورت میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف کارکنان ہیں جنہیں پارٹی قیادت نے اپنے لیڈر کا استقبال کرنے ایئرپورٹ پہنچنے کا کہہ رکھا ہے۔ جس کے بعد خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ پولیس نے لیگی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤنشروع  کیا  ہواہے۔

روزنامہ کاوش کے کالم نگارمنظور میرانی نواز شریف کی آمد: کیا غیر معمولی فیصلے ہو سکتے ہیں کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ مریم نواز نے جو غیر مفاہمتی موقف دیا اس نے نواز شریف کو مضبوط کردیا۔ پنجاب کے عوام پانامہ کیس کے الزامات بھول گئے۔ خیال ہے نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بعض اہم فیصلے ہوں گے۔ یہ فیصلے نواز لیگ خواہ دیگر سیاسی جماعتوں اور اسٹبلشمنٹ کو بھی کرنے پڑیں گے۔

تجزیہ نگارسہیل سانگی کے مطابق مسلم لیگ نواز پر کثیر رخوں میں دباؤ جاری ہے، لیکن اس سے پنجاب کے عوام میں پارٹی کی مقبولیت کم نہیں ہوسکی۔
’’روزنامہ سندھ ایکسپریس‘‘ میں عاجز جمالی لکھتے ہیں کہ نواز شریف کے روپ میں پنجاب بغاوت کے دروازے پر کھڑا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ضیاء الحق سے بغاوت کی اور جلاوطنی سے وطن واپسی پرا نہوں نے بھی لاہور کا انتخاب کیا تھا۔

نواز شریف ضیا ء الحق کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے تھے۔ لیکن یہ تین دہائی پرانی بات ہے۔ اب نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہم بالغ ہو گئے ہیں۔ اپنی مرضی پر چلیں گے۔ اگر پنجاب نے نواز شریف کا ساتھ دیا تو بڑی بغاوت ہو جائے گی۔ جس کی نواز شریف توقع رکھتے ہیں۔
بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ بھی پنجاب نے دیا تھا۔ آج نواز شریف اور عمران خان بھی خود کو پنجاب کا نمائندہ مانتے ہیں۔سچ یہی ہے کہ پنجاب کا مقابلہ پنجاب ہی کرسکتا ہے۔ آج اگر پنجاب کی اسٹبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے تو اس کا مقابلہ پنجاب کا عوام ہی کر سکتا ہے۔ اب پنجاب کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ نواز شریف کے پاس اب درست وقت آگیا ہے۔ اگر وہ پنجاب کے عوام کو جگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آمریت کے اتحادیوں کا کام اتار دیں گے۔ پنجاب کا فیصلہ جمہوریت کو مضبوط بھی کر سکتا ہے اور کمزور بھی۔

ارباب چانڈیو لکھتے ہیں نواز شریف اور ان کی نواز شریف جو مطالبات سے سے کوئی ذی شعور پاکستانی اختلاف نہیں کر سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو چلنے دیا جائے،انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہئیں۔ منتخب حکومت کو خارجہ اور دفاعی پالیسی بنانے کا حق دیا جائے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر ہے کہ ان مطالبات پر عمل کس طرح سے ممکن ہے؟ پاکستان میں جمہوری آزادیاں کس طرح سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ تب ممکن ہو سکے گا جب جمہوری قوتیں جمہوری نظام کے لئے تمام اختلافات بھول کر متحد ہو جائیں اور کسی بھی غیر جمہوری قوت کو موقعہ نہ دیں کہ وہ جمہوریت کو پٹری سے اتار سکے۔ ممکن ہے کہ حکومتی اقدامات کارکنوں کو فقید المثال استقبال کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ لیگی کارکنان اور پنجاب کے عوام اس کا بدلہ 25 جولائی کو لے لیں گے۔

’’روزنامہ کاوش ‘‘ میں ابراہیم کمبھر لکھتے ہیں کہ نواز شریف سزا یافتہ ’’مجرم‘‘ ہے ریاست کو اپنی عملداری دکھانے کے لئے گرفتار کر کے جیل بھیجنا ہے۔ اگر یہ کام اتنا ہی آسان ہے تو پھر خوف کیوں چھایا ہوا ہے؟ نواز شریف کی گرفتاری کے لئے حکومت نے تمام انتظامات کر لئے ہیں ۔ اس کے باوجود ہر ادارے اور وہاں بیٹھے ہوئے ہر شخص کے اندر سے خوف جھانک رہا ہے۔

نواز شریف کی آمد پر جن حلقوں کو خوف ہے وہ دراصل عوام کا خوف ہے۔ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے تو انہیں بھٹو سے ڈر لگتا تھا، پھر عوام جب بینظیر کے ساتھ کھڑے ہوئے تو ان سے بھی خوف لگتا تھا، اور اب عوام نواز شریف کے ساتھ ہیں تو انہیں نواز شریف کا خوف کھائے جارہا ہے۔
ایک اور خوف نواز شریف کے بیانیئے سے بھی ہے۔

About Author

1 Comment

  1. PMLN supporters despite all strict measures by caretakers reached to welcome their leader. It was not bad.. show. Senior journalist Abbas Nasir rightly said: The skies would not have fallen if PML-N supporters had assembled in Lahore to express their support for their returning leaders.

Leave A Reply