نوازخاندان کے خلاف آنے والا فیصلہ دینا میں مثالی بنا کر پیش نہیں کیا جاسکتا، مولانہ فضل الرحمٰن

0

ڈیرہ اسما عیل خان(ای این این ایس)متحدہ مجلس عمل کے صدر جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف آنے والے فیصلے پر میاں شہباز شریف کے رد عمل سے اعتدال جھلکتا ہے اگرچہ یہ فیصلہ ماضی میں انکی نااہلی کے فیصلے کا تسلسل ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسے فیصلے دنیا میں مثال بناکر پیش کرسکتے ہیں؟

 ان خیالات کااظہار انہوں نے این اے 38میں انتخابی مہم کے دوران پی کے 95 کے دیہی علاقوں بند کوارائی اور یونین کونسل لاڑ رنگ پور میں عوامی اجتماعات سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ۔اجتماعات سے امیدوار صوبائی اسمبلی سابق ایم پی اے احتشام جاوید اکبر خان، مولانا کفایت اللہ، جماعت اسلامی کے رہنماء سمیع اللہ ، ارشاد الٰہی ایڈوکیٹ، ملک مہربان ہوت نے بھی خطاب کیا۔ تحصیل امیر جمعیت علمائے اسلام سردار موسی خان بلوچ، تحصیل جنرل سیکریٹری قاری عثمان معاویہ، اور دیگر جماعتی عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

 مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات کا موسم ہے مسلم لیگ (ن) فیصلہ عوام میں لائے گی، ایسے فیصلے انتخابات کو مشکوک بنانے کا سبب بن سکتے ہیں، ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد موجودہ فیصلے کو بھٹو کے فیصلے کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیس جولائی کو پوری قوم کو ایک بار پھر عام انتخابات کے ذریعے پاکستان کے لیئے اپنی قیادت کا چناو کریں گے اس لحاظ سے یہ بہت اہم مرحلہ ہے ۔ ماضی میں جو فیصلے تلوار کرتی تھی اب موجودہ دور میں ووٹ کی پرچی کی طاقت اس مقصد کے لیئے استعمال ہوتی ہے۔

عدالت نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیا تو تحریک انصاف ،عمران خان اور شفقت محمود بنیادی محرکین میں سے ثابت ہوئے۔خیبر پختون خواہ گزشتہ پانچ سالوں میں 300 ارب کا مقروض ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہم نے صوبے میں ایک ارب درخت لگائے تفتیشی ادارے ایک ارب درختوں سے آدھے درختوں کا وجود ثابت کریں ہم معافی مانگ لیں گے ۔اسلام آباد کے چند بنگلے سرمایہ داروں کے لیئے نہیں ان بنگلون پر علما ءکا بھی اتنا ہی حق ہے۔میں تنقید کرتا ہوں اختلاف کرتا ہوں مگر سیاستدانوں کی ذات اور مخالف کو گالی نہیں دیتا ۔ بازاری زبان بولنے والوں کو کس منہ سے وزیر اعظم بننے کا شوق ہے۔

About Author

Leave A Reply