ملک کا اگلہ وزیر اعظم تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان میں سے نہیں ہوگا!پی پی سندھ اور نون پنجاب سے کامیاب ہوسکتی ہیں، لیکن حکومت بنانے میں مشکلات ہونگی، پی ٹی آئی کا کے پی سے جیتنا بڑی تبدیلی ہوگی، روایتی سیاست جاری رہی تو سیاستدانوں کے پاس “کھیلنے کے لیے بال ہی نہیں رہیگی”: تجزیہ

1

اسلام آباد(تجزیہ:  لالا حسن) ملک کا آنے والا وزیر اعظم  پی پی پی، نواز لیگ اور پی ٹی آئی سے نہیں ہوگا، اس حوالے سے سینیٹ چیئرمین کی طرز کا سیٹ سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ملک کی تین بڑی پارٹیوں میں سے کسی کو بھی اکثریت نہیں ملیگی، جب کہ پی پی پی  اپنا وزیر اعظم  اور پی ٹی آئی بھی اس بات پر بضد ہے کہ وہ اپنا وزیر اعظم  لائیگی۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حالت و واقعات سے ظاہر ہے  کہ پی ایم ایل  این کو  حکومت میں آنے نہیں دیا جائیگا، حالانکہ ووٹر ٹرینڈ بتاتا ہے پنجاب سے اکثریتی پارٹی  نواز لیگ ہی  ہوگی۔

سینئر سیاستدانوں کا کہنا  ہےکہ نواز شریف کے ساتھ وہی ہوگا جو انہوں نے ایسٹیبلشمنٹ  کے ساتھ مل کر پی پی پی کے ساتھ 1990 اور 1996 میں کیا تھا۔ نواز لیگ سادہ اکثریت حاصل کرنے کے باوجود حکومت نہیں بنا پائیگی، ان کے جیتنے والے لوگ یا تو  پی ایم کو ووٹ نہیں کرینگے یا پارٹی سے الگ ہو جائینگے، جس کی تازہ مثال جنوبی پنجاب سے جانے والے 6 سے زائد ارکان اسیمبلی  ہیں۔

ایسی صورتحال میں پی پی پی اور پی ٹی آئی   دیگر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت بنا سکتے ہیں۔ تاہم عمران خان نہیں چاہتے کہ پی پی کا وزیراعظم آئے، اور دوسری جانب آصف علی زرداری کا خیال ہے کہ عمران خان وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ ایسی صورتحال میں کوئی ایک سیٹ رکھنے والا یا کسی چھوٹے گروہ یا پارٹی سے وزیر اعظم لایا جا سکتا ہے ، جو پی پی پی اور پی ٹی آئی کو قابل قبول ہو۔

کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ کوئی  معجزہ ہی نواز لیگ کو حکومت میں لا سکتا ہے، جس کے آثار 10 فیصد ہیں۔ نواز لیگ کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ ہم پیٹرائٹ ٹائیپ بندوبست کو ہونے نہیں دینگے، ووٹر ہمارے ساتھ ہیں، ہم ہی جیتینگے۔

 یاد رہے کہ   ماضی میں پی پی پی کو حکومت سے باہر رکھنے  کے لیے   اس کے منتخب اراکین کا وفاقی اور صوبائی سطح پر فارورڈ گروپ پیٹریاٹ بنا یا گیا تھا، جس کی وجہ سے پی پی پی سندھ میں اکثریت  ہونے کے  باوجود حکومت نہیں بنا سکی تھی۔

پی پی پی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو بویا  ،آج وہی کاٹ رہے ہیں، انہوں نے پی پی پی کے خلاف جو کچھ کیا آج ان کے سامنے آرہا ہے، وہ کیوں بھول گئے ہیں کہ ان کے بنائے احتساب کمیشن اور اس کے سربراہ “احتساب الرحمٰن” نے  محترمہ بینظیر بھٹو شہید پر جھوٹے مقدمات بنائے اور ان کی حکومت دوبار ختم کروائی۔ ہم نے میثاق جمہوریت کے بعد ان کو معاف  کیالیکن وہ نہیں بدلے۔ان کا کہنا تھا کہ  وہ کالا کوٹ پہن کر پی پی کی حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئے اور بعد میں پی پی کے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے ہٹوایا تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی  کو یے یقین  ہے کہ عمران خان ہی وزیر اعظم بنینگے، ٹھیک اسی طرح پی پی والوں کا ماننا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری  اگلے وزیراعظم ہونگے۔ اس حوالے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو  کا کہنا تھا کہ نواز لیگ ختم ہوچکی، ان کا عام انتخابات میں مقابلہ پی ٹی آئی اور شین لیگ سے ہوگا۔اس حوالے سے کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ عمران خان اگر وزیر اعظم بن بھی گئے تو وہ دو سال بھی اس عہدے پر رہ نہیں پائینگے، ان کی طبیعت اور پی پی اور نواز لیگ انہیں چلنے نہیں دینگے۔

صوبوں میں سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب میں نواز لیگ کو سادہ اکثریت حاصل ہو جائیگی لیکن حکومت بنانے میں بڑی مشکلات ہو سکتی ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر شہباز شریف پنجاب تک محدود رہے تو ان کو حکومت بنانے دی جاسکتی ہے، تاہم حمزہ شہباز  و دیگر کے چانسز بہت کم ہیں۔

سندھ میں پی پی پی کا پلڑہ بھاری نظر آرہا ہے تاہم ایک سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے پی پی پی کے ساتھ وہی ہو جس طرح نواز شریف نے 1990 میں سابق  نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے ساتھ کیا تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ اگلے وزیر اعظم وہ ہونگے لیکن جیتنے کے بعد نواز شریف مکر گئے تھے۔ٹھیک اسی طرح پی پی قیادت کو اب تک یقین دہانی کرادی گئی ہے کہ سندھ میں ان کو حکومت بنانے دی جائیگی۔

بلوچستان میں بن نے والی نئی پارٹی کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے، اور وہی سادہ اکثریت حاصل کر لیگی، تاہم اگر غیرجانبدارانہ  وشفاف انتخابات ہوئے تو قومپرست جماعتیں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔

خیبر پختونخواہ کا ٹریک رکارڈ بتاتا ہے کہ وہاں کے لوگ دوسری بار حکومتی پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے۔ ایم ایم اے سے لیکر اے این پی تک ووٹر ٹرینڈ بتاتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہر الیکشن میں اپنا ووٹ تبدیل کرتے رہتے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی کا وہاں سے اکثریت کے ساتھ جیتنا مشکل نظر آتا ہے، جب کہ  سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی نے خود تسلیم کیا کہ ان کے لوگ بک گئے، تو ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کا وہاں سے جیتنا ایک چئلنج نظر آتا ہے۔

سینئر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں سیاسی نظام کا  تسلسل کے ساتھ چلنا خوش آئند ہے لیکن اس میں مداخلت سے جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔سیاسی قیادت نے اپنی روایتی سیاست  تبدیل نہ کی  اور عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات نہیں اٹھائے تو یے سسٹم بہت کمزور پڑجائیگا اور پھر “سیاستدانوں کے پاس کھیلنے کے لیے بال ہی نہ رہے گی”۔

About Author

1 Comment

  1. بشیرقاسم on

    بہت ہی زبردست تجزیہ کیا ہے لالہ حسن صاحب نے
    بشیرقاسم
    رپورٹر ای این این گوادر

Leave A Reply