ملتان کی سیاست میں خواتین کا کردار سدرہ اشرف

0

جنوبی پنجاب کے مرکزی شہر ملتان میں خواتین کی سیاسی میدان میں انٹری محدود، سیاست میں خواتین کی آمد میں اضافے کے باوجود جیت کا تناسب نہ بڑھ سکا، 2018 کے الیکشن میں 16 خواتین نے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کی لیکن جیت کا سہرا حسب روایت ایک ہی خاتون کے سر ٹھہرا ۔

ضلع ملتان میں 2013 کے الیکشن میں 14 خواتین نے قومی و صوبائی اسمبلی نشستوں پر حصہ لیا جن میں سے ایک خاتون مسلم لیگ ن کی نغمہ مشتاق لانگ نے پی پی 206 سے ایم پی اے کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں صوبائی وزارت کا قلمدان بھی سونپا گیا ۔

جنرل الیکشن 2018 میں ضلع بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 16 خواتین نے سیاسی میدان میں پنجہ آزمائی کی لیکن جیت کا تاج ان سے کوسوں دور رہا اور حالیہ انتخابات میں بھی حسب روایت ایک ہی خاتون سابق ایم پی اے نغمہ مشتاق لانگ ایک بار پھر حلقہ پی پی 223 سے ایم پی اے کی نشست پر کامیاب ٹھہریں۔

 ضلع ملتان میں اگر الیکشن 2018 کا جائزہ لیا جائے تو اس میں موروثی سیاست کے تحت مرد سیاستدانوں کی بیویوں، بیٹیوں اور ماوں اور بہنوں نے حصہ تو لیا لیکن قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ضلع ملتان میں صوبائی حلقہ 217 سے سابق صوبائی وزیر چودھری عبدالوحید آرائیں کی بیوی تسنیم کوثر  نے الیکشن میں بظاہر حصہ لیا تاہم وہ بھی پدر شاہی سوچ کا شکار ہوگئیں یہاں تک کہ عملی سطح پر ان کا اپنا نام تک عوام نہیں جانتے تھے کیونکہ عوامی حلقوں میں ان کے نام کی شناخت تک چھین لی گئی اور بیگم چودھری عبد الوحید آرائیں کے نام کی امیدوار کا اندراج حق رائے دہی استعمال کرنے والوں کو بیلٹ پیپر پر ملا ہی نہیں۔ جس کے باعث تسنیم کوثر الیکشن ہار گئیں۔

ملتان کی تحصیل جلالپور سے نغمہ مشتاق لانگ واحد خاتون ہیں جنہوں نے عام انتخابات میں صوبائی نشست پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جبکہ دیگر 15  خواتین  کو قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔مذکورہ نتائج کو دیکھا جائے تو خواتین کا سیاست میں کردار تو رہا ہے لیکن کامیابی کا تناسب بے حد کم ہے۔

خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی کارکن شائشتہ بخاری کا کہنا ہے کہ الیکشن میں خواتین کو امیدوار تو لایا جاتا ہے لیکن ان کی شناخت نہ ہونے یا مردوں کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار ادا نہ پانے کی وجہ سے ووٹرز کی جانب سے انہیں ووٹ نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے وہ الیکشن ہار جاتی ہیں ۔

 سماجی کارکن امجد بلوچ کا کہنا ہے کہ  یہ تاثر عام ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد ان کے مسائل زیادہ آسانی سے حل کرسکتے ہیں اور ووٹرز پرامید ہوتے ہیں کہ مرد تھانہ کچہری سمیت ان کے دیگر مسائل حل کروائے گا جبکہ خواتین ان کے نظر میں ایسے مسائل حل کروانے کی طاقت نہیں رکھتیں جس کی وجہ ووٹرز مردوں کو ووٹ دیتے ہیں جس کے باعث خواتین منتخب نہیں ہو پاتیں ۔

دوسری طرف ایسی خواتین جو اپنے خاوند ، والد ، بھائی یا بیٹے کے نام سے الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ان کو بھی اپنی کوئی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل پاتی نتیجتا وہ بھی الیکشن ہار جاتی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف خواتین کا  سیاست میں کردار محدود بلکہ انتہائی کم ہے ۔

سیاسی ورکر فاروق بھٹی کہتے ہیں کہ  پاکستان بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی موروثی سیاست کا بت آج بھی نہیں گرایا جاسکا ۔خواتین کے الیکشن نہ جیتنے کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین کو ان حلقوں سے نامزد کیا جاتا ہے جہاں ان کے جیتنے کا چانس کم ہوتا ہے ۔ دوسرا ایسی خواتین جو موروثی سیاست کے تحت اپنے خاوند یا والد کے نام سے الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ان کو بھی پذیرائی نہیں مل پاتی جس کی بنیادی وجہ ان کا حلقے میں نظر نہ آنا ، ووٹرز کے کام اور مسائل حل نہ کروا پانا اور گھر کی چار دیواری تک محدود رہنا ہے ۔

پروفیسر جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کاشف صدیق کہتے ہیں کہ  خواتین کی سیاست میں اپنی آزادانہ کوئی حیثیت نہیں ہے انہیں پراکسی وار کے طور لیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو ووٹ کاسٹ نہ کرنے دینا فخر سمجھا جاتا ہے اور یہی سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کو گھر داری تک ہی محدود رہنا چاہیے اس لیے خواتین کی سیاست میں نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔

پروفیسر پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان  رشیدہ نواز کا کہنا ہے کہ سیاسی میدان میں خواتین کو آگے لانے کے لئے انہیں بااختیار بنانا ہوگا، ان کا کہنا ہے خواتین اگر سیاست میں خاوند ، والد، بھائی یا بیٹے کی بیساکھی کا سہارا نہ لیں اور عوام کے مسائل حل کروانے کے لئے ازخود ووٹرز کا ساتھ دیں تو انہیں سیاسی میدان میں زیادہ کامیابی مل سکتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ خواتین کی سیاست میں نمائندگی بڑھانے کے لئے مردوں کو  اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی جبکہ سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ خواتین کو مردوں کے برابر نشستیں فراہم کرنے کے لیے اپنی اپنی جماعتوں میں خواتین کا کوٹہ بڑھائیں تاکہ خواتین سیاسی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی سیاست میں اگر خواتین کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو  چند خواتین نمایاں نظر آتی ہیں ان میں بیگم عابدہ حسین ، تہمینہ دولتانہ، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور نتاشہ دولتانہ،  زرتاج گل، نغمہ مشتاق لانگ و دیگر شامل ہیں   بیشتر خواتین مخصوص نشستوں پر اسمبلیوں تک پہنچتی ہیں جبکہ چند ہی الیکشن لڑ کر ایوان میں پہنچ پاتی ہیں۔

About Author

Leave A Reply