ملازمین کی تنخواہوں میں 15% اضافہ، 1217ارب کا سندھ بجٹ پیش، حزب اختلاف کا احتجاج

0

 کراچی (ای این این) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو آئندہ مالی سال 20-2019 کے لئے 1217 ارب کا صفر خسارے بجٹ پیش کیا، جس میں انہوں نے بورڈ میں 15 فیصد تنخواہ اور پنشن اضافہ کیا ہے۔ بجٹ میں پیپلز پرامس پروگرام، جوکہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپنے اتنخابی مہم کے دوران  غربت کے خاتمے کے لئے ایک پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، رکھا گیا ہے۔

آئندہ  مالی بجٹ میں بجٹ کے تخصیص کے لحاظ سے پہلی ترجیح تعلیم، صحت اور پھر امن و امان کو دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وفاقی ٹرانسفرز کے 665.085 بلین روپے کے بجٹ تخمینہ سے 631.543 بلین روپے کی منظوری دی ہے، لیکن اس طرح کے دعوے گمراہ کن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لینے میں ناکام رہی اور غلطی سے دو دن کے معاملات میں نظر ثانی شدہ وفاقی ٹرانسفارمرز کے دو مختلف اعداد و شمار کو مطلع کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں، سندھ کو فیڈرل ٹرانسفرز کے حساب سے صرف 492.135 بلین روپے وصول ہوئے اور یہ متوقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ کمی 117.527 بلین روپے  تک پہنچ جائے۔

سندھ اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کچھ اور ہی فیصلہ کیا ہوا ہے اپنی نا اہلی اور کام نہ کرنے کے رجحان کے ساتھ وفاقی حکومت نے جانتے بوجھتے پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کوخطرے کے نشان پر رکھ دیا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی تمام تر توانائیاں لوگوں کی خدمت کرنے پر صرف کر دی ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ موجودہ وفاقی حکومت کی کام میں عدم لچسپی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنی محصولات کی وصولی کے اہداف کے حصول میں متواتر نا کام ہورہی ہے۔ 11 ماہ میں 447 ارب روپے کی ریکارڈ کی کے ساتھ FBR کی کارکردگی گذشتہ سال کے دوران کم ترین سطح پررہی ہے نتیجتاْ  سندھ کو اس کے حصہ سے محروم رکھا گیا ہے اور وفاقی حکومت سے ہی حصہ نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں 117.5  ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ در حقیقت رواں مالی سال وفاقی حکومت نے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں سندھ کو مکمل نظر انداز کیا ہے سندھ کے لئے صرف 50 اسکیمیں رکھی گئی ہیں ہمیں ADPکا3.5  فیصد مل رہا ہے وفاقی حکومت کی سندھ اور اس کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے برعکس حکومت سندھ نہ صرف محصولات وصول کر رہی ہے بلک محصولات کی وصولی کے اہداف کوبھی عبور کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے اداروں اور وہ جو دیگر صوبوں میں ہیں کے برعکسSRBواحد  محصولات وصول کرنے والا ادارہ ہے جو تواتر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ 11-2010 کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولی فقط 16.6 ارب روپے تھی لیکن سندھ حکومت نے رفته رفته این ٹیکس وصولیوں اضافہ کیا اور سال 18-2017 کے دوران ہم نے 100 ارب روپیلس وصول کیا جبکہ آئندہ مالی سال 20-2019 کے لئے ہم نے ٹیکس وصولی کا ہدف 145.0 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نشاندہی کی ہے کہ وفاقی متقلوں کے بجیٹری تخمینہ 665.085 ارب روپے پرنظرثانی کر کے 631.543 ارب روپے کر دیا گیا ہے لیکن تمام دعوے گمراہ کن ہیں ۔ وفاقی حکومت اپنی مالی حالت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور کچھ ہی دنوں میں غلطی سے دو مختلف نظر ثانی شده متقلوں سے متعلق اعدادوشمار سے صوبوں کو مطلع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں سندھ نے وفاقی منتقلیوں کی مد میں صرف 492.135 ارب روپے وصول کئےہیں ۔ رواں مالی سال کے اختتام پر وفاقی منتقلیوں میں شارٹ فال 117.527 ارب روپے تک متوقع ہے۔ وفاقی حکومت آمدن بڑھانے میں ناقص کارکردگی کا الزام فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر عائد کر رہی ہے لیکن یہ بالکل عیاں ہے کے ڈھانچے میں اصلاحات لا نا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو اشیاء پرسیلز ٹیکس وصول کرنے کی پیش کش کی تھی کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ اشیاء پرسیلز ٹیکس صوبوں کو متتقل کرنے سے گوشواروں میں بلند ترین اضافہ ہوسکتا ہے جیسا کہ خدمات پرسیلز ٹیکس کے معاملے پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تو میں مالیاتی ایوارڈ پراتفاق رائے پیدا کر نے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں کیا۔ ایوارڈ کے اعلان میں تاخیرصوبوں کے حقوق کی قیمت پر کی گئی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی آمدن کے اہداف 243.082 ارب روپے سے نظر ثانی کر کے 240.746 ارب روپے کردیئے گئے ہیں اس کے نتیجے میں تخمینہ شدہ کٹر کی رقم 1.123 ٹریلین روپے کے مقابلے میں رواں مالی سال میں نظر ثانی شدہ وصولیاں 940.777 ارب روپے تک رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وصولیوں میں کمی کے باعث ہم نے اپنے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی ہے جو کہ رواں مالی سال میں 172.941 ارب روپے تک رہے ہیں۔ یہ ہمارے اہداف حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ متعددتر قیا تی منصوبوں جو کہ مل کئے جا سکتے تھے، تم کی عدم موجودگی کے باعث تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ  اسی طرح رواں آمدن کی مد میں تخمینہ 773.237 ارب روپے پرنظر ثانی کر کے 751.752 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ رواں آمدن کی مد میں کی بنیادی طور پر انتہائی سادگی کے اقدامات اور تخت مال نظم و ضبط کے بنا پر ہوئی ہے۔ مالی سال 19-2018 کے دوران انتظامی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ محکموں کی مرتی اور دیکھ بھال کے اخراجات کی بجٹ میں خاطر خواہ کی کر کے 30 . 8 ارب روپے سے 26.8 ارب روپے کر دی ہے۔ انتظامی امور کے اخراجات کی مد میں چوھی سہ ماہی کے بجٹ کا جزوی حصہ جاری کیا گیا ہے۔ تمام مالی مشکلات کے با و جو ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کی ہے کہ صحت او تعلیم کی سہولیات کیلئے خاطر خواہ بجٹ مختص کی جائے ۔ ہم نے سماجی شعبہ کے اداروں کی گرانٹس میں بڑی کھی کرنے سے گریز کیا ہے ہم نے ایس آئی یو ٹی (SIUT)، انڈس ہاسپٹل، ہیڈز (HANDS)،امن فاؤنڈیشن اور سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن وغیرہ جیسے اداروں کی بہتری کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث ہم اپنے اخراجات کے تخمینے پر نظر ثانی کرنے کے قابل ہوئے اور 1 . 144ٹریلین روپے پر نظر ثانی کر کے 956 , 779 ارب روپے گئے  ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اس کے نتیجے میں رواں مالی سال میں متوقع خسارہ 20 .457 ارب روپے کے مقابلے میں 16 ارب روپے رہے گا۔ میں ایک مرتبہ پھر اس بات کا اظہار کر رہا ہوں کہ بروقت اخراجات میں کی اور سادگی کے اقدامات اپنانے کی وجہ سے ہم خسارہ کم کرنے کے قابل ہوئے۔

 بجٹ تخمینہ 20-2019:

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2019-20میں صوبے کی وصولیوں کا تخمینہ 1.218ٹریلین روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ1.217 ٹریلین روپے ہے۔ وفاقی منتقلیوں کے طور پر صوبے کو 835.375 ارب روپے وصولی کی توقع ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہونے والی وصولیاں کل وصولیوں کا 74 فیصد ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برسوں میں وفاقی حکومت اپنے اہداف کی وصولی میں ناکام رہی ہے۔ ہم نے وہی اعدادوشمار مد نظر رکھے جو وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں بتائے گئے ۔ ہم زور دے کر یہ بات کہ سکتے ہیں کہ وفاقی حکومت اپنے ابدان اس وقت تک حاصل نہیں کر سکے گی جب تک وہ بڑےپیمانے پر تبدیلیاں متعارف نہ کرائے۔ وفاقی اپنے اہدان میں ناکامی کی وجہ سے صوبائی حکومت کو اگلے مالی سال 20-2019 میں مالی مشکلات کا سنا کرنا پڑے گا ۔ ہماری اپنی صوبائی وصولیاں رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہیں اور اگلے مالی سال کے لئے صوبائی محصولات کا ہدف 243.082 ارب روپے سے بڑھ کر 355.4 ارب روپے ہو گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ موجود محصولات کی سائڈ پر اخراجات کے بجٹ کا تخمینہ 870.217 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ موجودہ مالی سال کی ایلوکیشن 773.237 ارب روپے پر 12.5 فیصد اضاف کو ظاہر کرتا ہے۔ اخراجات میں12 فیصد کا اضافہ بنیادی طور پر ملازمین سے متعلق اخراجات کا ہے۔ جس سے کسی طورصرف نظرنہیں کیا جاسکتا۔بالکل اسی طرح بڑھتی ہوئی یو ٹیلی ٹیز کے اثرات کو جذب کیا گیا ہے۔ شدید سادگی (Austerity) کی ہماری یہ پالیسی اگلے مالی سال میں بھی جاری رہے گی ۔ ہم نے اپنے جاری مصارف میں نمایاں کٹوٹیاں کی ہیں تاہم سا ہی شعبوں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگلے مالی سال میں ترقیاتی کاموں کے لئے 283.5 ارب روپختص کئے گئے ہیں جس میں صوبائی اور ضلعی اے ڈی پی کے 228 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ ترقی وسط مدتی اور طویل المدتی حکمت عملی کی متقاضی ہوتی ہے جس کے لئے تمام اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کا درست طریقہ کرنا بھی نہایت ضروری ہے چنانچہ اب اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے زیر کھیل اسکیموں کو سال به سال بلا تاخیر رقوم کی فراہمی ضروری ہے تا کہ ہم اپنے وہ اہداف حاصل کرسکیں جو کہ ہم نے مجموعی نمو، ملازمتوں کی تخلیق اور اپنے عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے متعین کئے ہیں۔ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں اپنے چیلنجز، کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ (14-2013 سے18-2017) تک کے گزشتہ  مالی سالوں کے دوران حکومت سندھ نے صوبے کی مجموعی ترقی کے لئے سماجی ، معاشی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پائیدار ترقی کے لئے جن اہداف (SDGs) کو اختیار کیا وہ بھی منعکس  ہوتے ہیں۔ حکومت نے اچھی صحت، اچھا رہن سہن، معیارییم ، صاف پانی اور بہتر نکاسی ،صاف اور قابل استطاعت توانائی ستھرا کام اور معاشی نموادرسی مساوات اور موسمیاتی عمل کو اپنے اہم اہداف کی حثیت سے ترجیحی طور پر تعین کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال اگست 2018 میں اپنا عہد ہ دوبارہ سنبھالنے کے بعد مالی دشواریوں اور سال کی پہلی سہ مائی میں منتقلیوں کے باعث ترمیم کرنے کی غرض سے صوبائی اے ڈی پی کا سائز 252 ارب روپے سے کم کر کے 223 ارب روپے کیا۔ غیریقینی کی صورتحال ترقیاتی سرمائے‘ پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہوئی اور مجموئی سرمائے (KITTY) میں تحقیق کے باعث منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی اثر پڑا۔ چنانچہ محکمہ  خزانہ (3 جون 2019 تک ) تر قیاتی پورٹ فولیو کی تمام مدات (Heads) میں 130 ارب روپے جاری کر سکا۔ صوبائی اے ڈی پی کی مد میں اب تک 125.18 ارب روپے جاری ہوئے۔ اس مجموی اجرا کے مقابل جون 2019 کے اختتام تک مجموعی اخراجات کا تخمین تقریبا110 ارب روپے متوقع ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جاری کی گئی رقوم سے کم اخراجات ہوئے لیکن ایسا سال بھر ہونے والی جاتی اور غیر این صورتحال کے باعث ہوا۔ اس صورتحال کے با و جو وتوقع ہے کہ جون 2019 تک سو پانے 453 کاری میں مکمل کر لیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں سندھ سے ہونے والی نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی مجموعی طور پر 951.0 ارب روپے ہے جس میں 127 ارب روپے فارین پراجیکٹس استنس(FTA) کے شامل ہیں۔ مذکورہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے 50 جاری اور نئے منصوبوں کے لئے 33.3 ارب روپےمختص کئے گئے تھے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی 20-2019 میں شامل مجموئی منصوبوں میں سے سندھ کے 12 منصوبوں کے لئے صرف 4.89 ارب روپے رکھے گئے جبکہ بلوچستان سال 19-2018میں15.0 ارب روپے اور 18-2017 میں 27.3 ارب روپے مختص کئے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی سے متعلق یہ یاد رکھا جائے کہ وزیراعظم نے 30 مارچ 2019 کو 162 ارب روپےکے کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ 12.1 ارب روپے کی لاگت کی 19 اسکیمیں شامل تھیں ۔ جبکہ کرائی کی ہی6 نئی اسکیموں کے لئے صرف 3.9 ارب روپخت کئے گئے ہیں۔

تعلیم:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیم سے کسی بھی فرد، معاشرے اور ریاست کی مجموعی ترقی کو جانچا جاتا ہے۔ یہ وہ بنیادی چٹان ہے جس پر خوشحالی اور انسانی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے تعلیم انسانوں کو اعلی ظرف بنائی اور برداشت، رواداری ،سماجی انصاف اور جمہوری رویوں کوفروغ دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے لئے وسائل مخت کرتےوقت اسے تمام دیگر شعبوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اگلے مالی سال20-2019 کے لئے اسکول ایجوکیشن میں غیر ترقیاتی بجٹ سال 19-2018کے170.832 ارب روپے سے بڑھا کر 178.618 ارب روپے کیا جارہا ہے۔ جبکہ تر قیاتی اخراجات کی مد میں اے ڈی پی 20-2019 کے لئے 15 .15 ارب روپے کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے مشاورتی عمل کے ذریعے سندھ کے تعلیمی شعبے کا منصوبہ اور روڈ میپ (20-2019) تیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی ، دانشوروں اور علم فقل رکھنے والوں کو ساتھ لیا گیا کیوں کہ وہ مادی ترقی میں برابر کے حصے دار ہوتے ہیں ۔ شعبے کے نئے منصوبے کا فوکس اسکولوں میں نئے داخل ہونے والوں کے لئے اضافی کمرہ ہائے جماعت ( کلاس رومز ) پینے کے صاف پانی ، بیت الخلا ء اور چار دیواری کی سہولیات کی فراہمی پر رکھا گیا ہے تا کہ طالب علموں بالخصوص لڑکیوں کو شفوظ ماحول فراہم کیا جائے ۔ لڑکیوں کی تعلیم کو خاص ترین دیتے ہوئے لڑکیوں کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات کی فراہمی کے لئے مناسب فنڈز کی تجویز ہے تا کہ دیہی علاقوں کے اسکولوں میں طالبات کی کمی کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ ہم نے اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو لیں نظام کے تحت لانے کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں اس سلسلے میں دائر یکٹوریٹ آف لٹری اینڈ نان فارل ایجوکیشن کوخصوصی فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں تا کہ وہ کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں (CBOs) کے ساتھ شراکت کے ذریعے ٹیوٹر مہیا کریں جبکہ حکومت شام کے اوقات میں اسکول کی عمارت مہیا کرے ۔ سی پی اوز ( کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں) کوئی بچہ کی بنیاد پر انتظامی اخراجات ادا کئے جائیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے سرکاری نجی شراکت کے نوڈ (NODE) کو مہمیز دینے کے لئے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن (EMOs) کے ساتھل کر طالب علموں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہماری توجہ کا ایک اور میدان تعلیم نونهالان (Early Childhood Education) ہے۔ سندھ نے دیگر صوبوں پر سبقت لیتے ہو تعلیم بنگہداشت نونهالان Childhood care and Education)) کی پالیسی منظور کی ہے۔ ہم نے پہلے ہی اپنے سرکاری اسکولوں میں 1500 ای سی ای (ECE) کلاسز قائم کر دی ہیں جبکہ اگلے مالی سال20-2019 میں مزید 1500 ای سی ای (ECE) کلاسز قائم کرنے کا منصوبہ  تشکیل دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موثر نگرانی اور شواہد کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے لئے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹر کی ڈپارٹمنٹ نے جنوری فروری 2019 میں تمام سرکاری اسکولوں کی ٹیکنالوی کے استعمال کے ذریہ مردم شماری کی ہے۔ اب ہمارے اس وہ ڈیٹا موجود ہے جس کی بنیاد پر میں نہ صرف بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے ذریعے ہم اپنے وسائل بہتر طریقہ سے استعمال بھی کر سکیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسکول ایجوکیشن کے تحت 19-2018 میں بلند تر بچی کے حامل 4560 اسکولوں کی تزئین و آرائش پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے اسکول جن میں زیادہ انرولمنٹ ہے وہاں کلاس رومز کی مناسب سہتیں ، واش رومز، پانی ،بجلی اور ضروری تدریکی اسٹاف کی فراہمی کے ذریع تدریسی ماحول کو بہتر کر کے مزید انرجمنٹ کے مواقع پڑھائے جانے کے اقدامات کر کے کہ اسکول ایجوکیشن جون 2019 تک 1437 یونٹ مکمل کر لے گا۔ مزید 1973 سرکاری اسکولوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مزید 367 اسکولوں کو پینے کا صاف پانی ایک نئی ترقیاتی اسکیم کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اسکول ایجوکیشن پورٹ فولیو کے تحت 279 اسکیموں کے لئے 15.15 ارب روپے (188 جاری اور91نی اسکیموں منتقل کئے گئے ہیں ۔ نئے مالی سال کے لئے مزید بڑے اقدامات یہ ہیں: (1) سائبان سے محروم 20 پرائمری اسکولوں کے لئے 6 کروں کی عمارت کی تعمیر۔ (2) زیادہ ا نرولمنٹ رکھنے والے 113 مخدوش پرائمری اسکولوں کی ز میں، مرمت (بمع اضافی کمرہ ہائے جماعت اور غیر موجود سہولتوں کی فراہمی) (3)  موجودہ ہائی اسکولوں میں تبدیلی کر کے 35اڈل اسکول کمپلیکس کا قیام مع ان سکولوں کے فیڈر پرائمری اسکولوں کو سیکھنے کے بہتر مراکز میں تبدیلی کی اسکیم۔ (4)  ’’بلندترجیح‘‘ کے حامل 4560 اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول کی 42 اسلیم ہیں جن میں 1772 اسکول شامل ہیں سال 20-2019 میں مکمل ہوں گی۔

کا لج ایجوکیشن:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگلے مالی سال 20-2019 میں کا بج ایجوکیشن کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ سال 19-2018 کے15.777 ارب روپے سے بڑھا کر 18.094 ارب روپے کیا جارہا ہے جبکہ ترقیاتی مد میں اے ڈی پی2019-20 میں 4ارب رد پیش کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2019-20 کے اے ڈی پی میں محکمہ کا ایجوکیشن کے لئے بڑے ترقیاتی اقدامات یہ ہیں: (1) *  17 نئے کالجوں کے قیام کا منصوب جن میں کراچی (ضلع کورنگی ضلع ملیر ضلع غربی ) جبکہ حیدر آباد ،عمرکوٹ مکھر، جامشورو، شکار پور، جیکب آباد اور سانگھڑ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔(2) مختلف اضلاع میں موجود کالجوں میں تعمیر و مرمت و بحالی اور فرنیچر کی فراہمی کی متعدد اسکیمیں۔ (3) 20-2019 میں گڈاپ اور پنوں عاقل کے کیڈٹ کالجز میں غیر موجود سہولتوں کی فراہمی کے لئے اسکیمیں۔

یونیورسٹیز اور بورڈ:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2019-20 میں محکمہ یو نیورسٹیز اور بورڈ کے غیر ترقیاتی بجٹ کی رقم (Allocation) مالی سال2018-19 کے 9.529ارب روپے سے بڑھا کر 10.585 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  حکومت سندھ نے یونیورسٹیوں اور بورڈز کے لئے مالی سال 20-2019 کے لئے 3 ارب روپےمختص کئے ہیں ۔ جن سے ہائر ایجوکیشن سے متعلق متعدد اقدامات کے لئے رقم فراہم کی جائے گی ۔ جیسا کہ(1) سکھرBAایو نیورٹی میں سینئر آف رو بینکس، مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence) اور بلاک چین مرکز کا قیام (2)  NED کیمیں تھرپارکر میں تھر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا قیام ۔ (3)  بدین اور میر پور خاص میں سندھ یونیورسٹی کیمپس کا قیام۔

صحت:
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صحت کا شعبہ سندھ حکومت کی اعلی ترجیحات میں شامل ہے ۔ اس ضمن میں سال  بہ سال مدافعتی پروگراموں کے لئے قابل لحاظ رقم خرچ کی گئی ہے۔ بنیادی صحت کے پروگرام کو PPH1 کے دارای تند کیا گیا ہے۔ متعدد بڑے صحت کے اداروں / اسپتالوں کو گرانی اور ترقیاتی رقوم کے ذریے فنڈ فراہم کئے گئے ہیں جن میں ایس آئی یوئی (SIUT)، انڈس ہاسپٹل، جے آئی ایم ایس (JIMS)، جے پی ایمی (JPMC)، این آئی سی او (NICH)، این آئی سی وی ڈی (NICVD) معہ کراچی میں اس کے 8 سپلانٹ اور 9 موبائل چیسٹ پین پینٹس شامل ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت کے موجود محصولاتی اخراجات (Revenue Expenditure) ما سوال می کنیم ،رواں مالی سال 19-2018 کی رقم 96.8 ارب روپے سے بڑھا کر 19 فیصداضا نے کے ساتھ مالی سال 2019-20 کے لئے 114.4 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مالی سال 19-2018 کے لئے 13.5 ارب روپے 170 اسکیموں کے لئے مختص کئے گئے تھے اور 3جون 2019 تک جاری کئے گئے 8.01 ارب روپے میں سے 4.61 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ 12 اسکیمیں 2019 تک مکمل کئے جانے کی توقع ہے جو معیاری صحت، خدمات تک رسائی کو بہتر بنائیں.

حکومتی کامیابیوں کا ذکر:
* لیاقت یونیورسٹی میدیکل کاری اور غلام محمد میڈیکل کا بے ہسپتال سکھر میں 50 بستروں کے میڈیکل اور سرجیکل آئی سی یو، شعبہ حادثات اور او پی ڈی(OPD) کے شعبوں کا قیام۔

* ”نظام صحت کو کم کرنے اور نگرانی اور نگہداشت کے نظام کا یو ایس ایڈ (USAID) کے تعاون سے آغاز اور بہتر گورنس کے لئے ہیلنجمنٹ انفارمیشن سسٹم (HMIS) وضع کیا گیا ہے۔

* ایس آئی یونٹی میں متعدد دیگر شعبوں جیسے پیڈیاٹرکس، کارڈیالوجی میں خدمات کی فراہمی کا اضافہ۔

* سینیٹرز کی تعداد کو بڑھا کر 2768 کردیا گیا ہے جبکہ 1733 دی سینیٹرز کی ریکروٹمنٹ کا عمل جاری ہے۔

* ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت 350 ٹی بی DOTS کلینکس قائم کئے گئے ہیں جبکہ ٹی بی اور ادویات کی دو گھنٹوں میں تشخیص کے لئے پیک سیکر فیسیلیٹیز میں 110 مشینوں کی تنصیب۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اے ڈی پی 20-2019 کے لئے اس شعبے کے لئے رواں مالی سال کے مطابق 13.50 ارب روپے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ رکھے گئے بڑے اہداف میں سے چند یہ ہیں: (1)  سی ایم سی ہاسپٹل لاڑکانہ کے مختلف شعبوں کے لئے 600 ملین روپے کی لاگت سے مشینوں اورآلات کی فراہمی۔ (2) دماغی صحت کی خدمات میں بہتری کے لئے 275.000 ملین روپے کی لاگت سے کمیونی مینٹل ہیلتھ پروگرام۔ (3) جامشورو میں جانکا(JICA) کے تعاون سے زچہ و بچہ کی صحت کے نگہداشت کا مرکز۔ (4) پی پی پی (PPP) فریم ورک کے ذریعے یا ترقیاتی رقوم کی فراہمی کے ذریے گھر میں 200 بستروں کے اسپتال کا منصو بہ۔

توقع ہے کہ 20-2019 کے دوران 43 اسکیموں کے مکمل ہونے پر تمام شعبوں کی خدمات میں یقینی بہتری آئے گی ۔ جن میں امیونائز یشن،AIDS با مانشس ہلیریا، ٹی بی کنٹرول، بلائنڈ ئس کنٹرول، و غیره شامل ہیں اس مقصد کے لئے 4.08ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے مشاورت اور ہسپتالوں کے تبادلے کے میکنزم کو وضع کئے بغیر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکوارڈزیزز NICVD، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) کا کنٹرول لینے کا نو نیکیشن جاری کر دیا اس فیصلے نے غیریقینی اور ابہام کی صورتحال پیدا کر دی جس سے خدمات کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا۔ وزارت خدمات قومی صحت کو صوبائی حکومت کے ساتھ لے کر ابتدا میں ہی مکینزم بنانے کے لئے اجلاس کرنے ان میں صوبائی حکومت سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایک نظر ثانی کی پٹیشن دائر کر چکی ہے اور توقع ہے کہ ہمارے کنٹری بیوشن کوتسلیم کیا جائے گا اور ایک موافقت نتیجہ آئے گا ۔ صوبائی حکومت نے ان تین صحت کی سہولتوں (Health Facilities) کے لئے تھا بل لحاظ رقوم خرچ کی ہیں اور ہمارے کچھ منصوبے پائپ لائن میں ہیں صوبائی حکومت نے سخت محنت کرتے ہوئے اور بڑے عزم کے ساتھ ہے پی ای سی ، این آئی سی وی ڈی اور این آئی کی رات کو شاندار اداروں میں تبد میں کیا اور اس مقصد کے لئے بجٹ میں گرانقد رقوم ان کی بہتری اور توسیع کے لئے ختم کیں ۔ یہاں میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ ہم نے کسی حد تک ان اداروں کے وسائل میں اضافہ کیا۔ میں آپ کو صرف NICVD کی مثال پیش کرنا چاہوں گا کہ جب وفاقی حکومت نے اسے ہمارے حوالے کیا اس وقت 12-2011 میں اس کے لمختف تم Allocation )355ملین روپھی جبکہ ہم نے اس ادارے کے فنڈز میں اضافہ کیا اور 19-2018 میں یہ رقم بڑھتے ہوۓ 8.876 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہماری حکومت دل کی بیماریوں کے علاج کی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈزیززنے قابل تحسین خدمات انجام دی ہیں اور یہ ہارٹ اٹیک کے علاج اور پرائمری اس جو پانی کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ سندھ کے عوام کو ان کی دہلیز پر بروقت اور برک عارضہ قلب سے بچاؤ کے لئے بالکل مفت خدمات مہیا کر رہا ہے اس کی خدمات میں سے چند کی نشاندہی میں کرنا چاہوں گا۔ پہلے کراچی میں سینے کے درد کے 6 فعال تھے۔ اس سال ہم نے کراچی میں تین نے مراکز کا اضافہ کیا ہے کہ اپنی نوعیت کی منفردسرول ہے جو کہ پورے سال اور 24/7 گھنٹے مہیا کی جارہی ہیں۔ سینے کے درد کے پیٹ کا قیام تیز تر رسائی اور شخص کے ساتھ ساتھ ابتدائی اور فوری علاج کی فراہمی کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔

* اس کے ساتھ ہی میں واضح کرنا چاہوں گا کہ ہم نے ٹنڈو محمد خان ، لاڑکانہ ، حیدر آباد اور سہون میں NICVD کے سیٹلائٹ سینٹرز سندھ حکومت کے اشتراک سے پہلے ہی قائم کر دئے ہیں۔

دریں اثناء حزب مخالف اراکین نے اس دوران احتجاج جاری رکھا اور وزیر اعلیٰ کے قریب نعریبازی کرتے رہے۔

About Author

Leave A Reply