!مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں سیاسی اتحاد

0

بٹگرام (رپورٹ: شاہین آفریدی) پاکستان میں 25 جولائی کوعام انتخابات  کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ پاکستان  کی بڑی جماعتوں میں سے دو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کئی بار اقتدار میں رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ اپوزیشن میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید بھی خوب کی جاتی رہی ہے۔

ایک طرف اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت ایک دوسرے کے سیاسی حریف نظر آرہے ہیں تو دوسری جانب خیبر پختونخوا  کے ہزارہ ڈویژن، بٹگرام میں دونوں پارٹیوں کا مثالی اتحاد بھی دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ضلعی قائدین اورپارٹی کارکنان ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ سیاسی ریلیاں ہو یا کارنر میٹنگس، دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں اور ایک ہی جگہ پر دونوں جماعتوں کے جھنڈے نظر آتے ہیں۔

ضلع بٹگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنما جلال الدین جلال بابا کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں نظریاتی پارٹیاں ہیں اور ان کا منشور بھی ایک ہے یعنی عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنا۔

“ہم دونوں جماعتیں الیکشن مہم ایک ہی جگہ سے کر رہے ہیں ہمارا الیکشن آفس بھی ایک ہی ہے۔ اس وقت بٹگرام میں یہ دونوں جماعتیں ایک مظلوم طبقہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہم نے سیٹ جیتنے کی بنیاد پر اتحاد کیا ہے”۔

حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے جیل جانے کے بعد مسلم لیگ ن کی جماعت نے نواز شریف کے حق میں ریلیاں نکالی ۔ جبکہ بٹگرام میں بھی ان کی جماعت کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہمناؤں نے شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ڈویژنل جنرل سیکریٹری اختر جاوید خان ضلعی سطح پر ایک جدت پسند سیاستدان کے طور پر مانے جاتے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے جو کہ جمہوریت کی زینت بھی ہے۔ مسلم لیگ ن کو ڈویژنل سطح پر پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اختر جاوید خان کہتے ہے کہ دونوں جماعتوں نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی بنیاد پر اتحاد کیا ہے۔

 دونوں جماعتیں سیاسی اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ایک ہو گئی ہیں۔ سیاست میں مفاہمت ہونی چاہیئے اور “میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ہزارہ ڈویژن میں زرداری کی سیاست میں مفاہمت والی روایت کو زندہ کر دیا ہے”۔

اختر جاوید خان کہتے ہیں کہ اس فیصلے کو پارٹی کی صوبائی سطح پر سرپرستی حاصل ہے اور خوب سراہا بھی گیا ہے۔ سیاست میں گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستانی سیاست ماضی میں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔

ضلع بٹگرام میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی اتحاد ہے۔

پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ایسے انوکھے واقعات کئی بار دیکھنے کو ملے ہیں جو سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہونی چاہیئے وہ اتحاد کر لیتی ہیں۔

About Author

Leave A Reply