مخلص قیادت چاہئے! تحریر سدھیر احمد آفریدی

0

 پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہترین مختلف موسموں، سورج کی روشنی، ہوا کی چلن اور قدرتی نہری نظام سے نوازا ہے، یہ ملک چھوٹا مگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جغرافیائی لحاظ سے اس مقام پر واقع ہے جسے بلا شبہ گیٹ وے کہا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی 75 سالوں میں یہ ملک وہ ترقی نہیں کر سکا جو ہم سب کی آرزو ہے اس بری ناکامی کی ذمہ داری صرف سیاستدانوں پر عائد کرنا زیادتی ہوگی۔
بیوروکریسی، عدلیہ اور مقتدر ادارے بھی اس میں شریک ہیں کسی نے بھی آئین اور قانون کے مطابق متعین شدہ کردار ادا نہیں کیا بلکہ ہر شخص اور ادارے نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اگر ہم سب کے لئے آئین اور قانون اور اس ملک کے مفادات عزیز ہوتے تو آج ہمارے ملک کا یہ برا حال نہ ہوتا اور ان حقائق کی تفصیل اور تاریخ میں جانے کی بھی ضرورت نہیں جو کچھ ہمارے سامنے ہے یہی حقیقت ہے لیکن اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ اگر ملک کو خدا نخواستہ کسی بھی حوالے سے اور کہیں سے بھی کوئی نقصان پہنچا تو ساری قوم برباد، غلام اور ذلیل ہوگی اگر اس ملک کو درد دل رکھنے والے مخلص حکمران ملتے تو آج صورتحال اس نہج پر نہ پہنچتی زیادہ تر صاحب حیثیت اور بااختیار افراد کو جہاں بھی موقع اور اختیار ملا ہے۔
انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے استحصال اور کرپشن میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور بے دردی سے قومی دولت اور وسائل کو لوٹنے کی کوشش کی ہے ان مادہ پرستوں اور خود غرض بااختیار لوگوں کی وجہ سے آج پاکستان میں غریب لوگوں کا جینا حرام ہو گیا ہے مہنگائی اور بے روزگاری اتنی بڑھ چکی ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے ملک کے معاشی حالات اگر اس رفتار سے خراب ہو رہے ہیں تو پھر جو نقشہ بنے گا وہ بھیانک ہوگا،ہر طرف افراتفری، بے چینی، چوری، ڈاکے اور قتل و غارت کا خدانخواستہ ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اس لئے اب بھی وقت ہے کہ ملک کو مستحکم کرنے اور عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لئے ایک ایسی مخلص اور دیانت دار قیادت کو ملک کی بھاگ ڈور سونپے جو انتہائی ذمہ داری اور فرض شناسی کے ساتھ ملک کے جملہ امور اور اداروں میں انقلابی اصلاحات لاکر تبدیلی لے آئیں جس کے نتیجے میں ملک دیوالیہ ہونے سے محفوظ ہو سکے اور غریب عوام کچھ سکھ اور سکون کی سانس لے سکیں لیکن عوام کو بھی اس ضمن میں اپنے ووٹ کا صحیح اور درست استعمال ذمہ داری اور ایمانداری سے کرنا ہوگا بے شک مشکلات اور تکالیف اور آئے روز کی مہنگائی اور گرانفروشی نے بھی اس قوم کو فی الحال نہیں جگایا قوم کی طرف سے فی الحال کوئی بڑی مزاحمت سامنے نہیں آئی اور نہ کہیں لاکھوں لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئے ہیں مگر یاد رکھیں اگر ایک بار قوم بپھر کر باہر آئی تو پھر ان بے روزگاروں، بھوکوں اور پیاسوں کو کنٹرول کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی اس لئے اب بھی موقع ہے کہ من حیث القوم تمام خرابیوں اور برائیوں سے توبہ تائب ہو کر ہم سب سدھر جائیں۔
اس ملک کی مضبوطی، استحکام اور قوم کی خوشحالی کی خاطر، ملک میں عدل و انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے سب ملکر کام کریں تو پھر الحمد اللہ اس ملک کے اندر کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو جرآت مند، پاک باز، دیانت دار اور مخلص قیادت کی کمی ہے تمام آزمائے ہوئے چہروں کو مسترد کرکے نئی قیادت کو سامنے لانے کی ضرورت ہے ہمارے نوجوان ہمارا سب سے بڑا اور قیمتی اثاثہ ہے اگر نوجوانوں کی تربیت کی جائے، ان کو ٹیکنیکل تعلیم اور ہنر سکھائیں جائیں، ان کو کام پر لگا کر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے اور کچھ کو بیرون ملک بھیجوا کر دیگر ممالک میں کام کرنے کے مواقع دئے جائیں تو ہمارے بہت سارے مسائل ختم ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی نوجوان اس ملک کے معاشی اور اقتصادی مسائل ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں اور اگر ان کو آوارہ اور بے روزگار چھوڑ دیا گیا تو یہی نوجوان اس ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے کے ڈرائیورز بھی بن سکتے ہیں اور جہاں کوئی برائی ہوگی یہی نوجوان وہاں پیش پیش ہونگے دوسری بڑی بات یہ کہ اس ملک کے اشرافیہ کو لگام دینے کی ضرورت ہے اوپر سے نیچے تک تمام اداروں سے پروٹوکول کلچر کو ختم کیا جانا چاہئے،غیر ضروری اور غیر ترقیاتی اخراجات کو زیرو پر لائیں، انرجی کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے اشرافیہ قربانی دیکر تمام تر سرکاری دفاتر میں ائیر کنڈیشنز کے استعمال کو بند کریں اور عملاً پرتعیش زندگی چھوڑ کر سادگی اپنائیں اور پورے ملک کے اندر سادگی،کفایت شعاری اور قناعت کو پروان چڑھائیں اور معیشت کو سود سے پاک کریں اسی طرح بڑے پیمانے پر ہر جگہ بارانی ڈیمز بنائیں اور بنجر زمینوں اور صحراؤں کو زیر کاشت لانے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر اقدامات کریں بیرونی قرضوں اور پروڈکٹس پر انحصار ختم کرنا ہوگا اس کے مقابلے میں اپنی صنعتوں میں وسعت پیدا کریں اور ان کی پروڈکٹس کو معیاری بنوانے کو یقینی بنائیں،ہمسایوں کے ساتھ باالخصوص ایران، افغانستان اور چین کے ساتھ تعلقات اور روابط کو بہتر اور مزید خوشگوار بنانے پر اگر توجہ مرکوز کی جائیں تو ہمیں بہت سی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے درآمدات کے مقابلے میں برآمدات میں اضافے کے لئے اہداف مقرر کریں اور اس حوالے سے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے مغرب میں واقع مسلمان پڑوسی ملک افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنائیں کیونکہ اگر افغانستان میں بے آرامی اور بے چینی ہوگی تو ہم پرامن اور خوشحال زندگی بسر نہیں کر سکتے اور پرامن افغانستان کے راستوں کو استعمال کرکے پاکستان اپنی اشیاء وسط ایشیاء کے ممالک تک باآسانی پہنچا سکتے ہیں اور وسط ایشیا کے ممالک ہمارے لئے مفید منڈی بن سکتے ہیں ان کے ساتھ اگر ہمارے تجارتی روابط بڑھ جائیں تو وہ ممالک بھی قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جن سے استفادہ ممکن ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالٰی پر توکل کرتے ہوئے ہر بیرونی چیلنج کا مقابلہ کیا جانا چاہئے پاکستان ہمارا ہے اس کے مفادات اور استحکام کے لئے کسی کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا جائے ہم نے ایٹمی پروگرام تکمیل کو اس وقت پہنچایا جب ہمارے اوپر اقتصادی پابندیاں عائد تھیں مطلب ملکی مفادات پر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے خوداعتمادی اور خود انحصاری کی پالیسی اپنائیں پھر دیکھیں یہ ملک کیسے ترقی نہیں کرتا اس ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے اس کے ہر ادارے سے کرپشن کو ختم کرنا ہوگا یہ ایک ناسور ہے جیسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے بلا امتیاز تمام کرپٹ اشرافیہ کا بے لاگ احتساب ہونا چاہئے اور ہر کسی کے پیٹ سے خورد برد کی گئی رقومات واپس نکالنے کو انجام تک پہنچانا چاہئے انشاء اللہ پھر اس ملک کے اندر کسی کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔

About Author

Leave A Reply