لاہور کے قریب عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی: سی سی پی او تنقید کی زد میں، مشتبہ ملزمان گرفتار

0

لاہور(ای این این ایس) لاہور کے قریب موٹر وے پر خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کے واقعہ میں اس شدت آگئی جب سی سی پی او لاہور کا یے بیان سامنے آیا کہ عورت رات کے وقت کیوں نکلی، جس پر سوشل میڈیا پر شدت تنقید کی جا رہی ہے۔ سماجی رہنماؤں و دیگر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے مذکورہ پولیس افسر کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا ہے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی گرفتاری تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں ہے۔ پولیس 12 مشتبہ ملزمان کو حراست میں لے چکی ہے جن میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔
آئی جی پنجاب کے حکم پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20ٹیمیں واقعے کی تفتیش کر رہی ہیں۔ اس مقدمہ میں نصف درجن سے زائد مشتبہ افراد سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔
گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔
اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔
خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے ۔ ڈاکوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے امید ہی جلد ہی کامیابی ملے گی، گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیر اعلیٰ نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد پولیس، موٹر وے و دیگر اداروں پر تنقید کی جارہی ہے۔

About Author

Leave A Reply